لاہور میں مینگو فیسٹول کا آخری روز

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی اور گولڈ کریسٹ مال ڈی ایچ اے لاہور اور ڈیسوم مال کے اشتراک سے تین روزہ مینگو فیسٹیول کے آخری روز مینگو گروورز کی جانب سے لگائے گئے 30 سے زائد سٹالز پر 50 سے زائد مینگو کی اقسام سجائی گئی تھیں۔
اس کے ساتھ ساتھ آموں سے بنے مختلف پروڈکٹس جیسا کہ آم کا اچار، آم کی چٹنی، آم کی جیلی اور آم سے بنے مشروبات شامل تھے جو کہ شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے مختلف پروجیکٹس میں تیار کردہ پروڈکٹس جیسا کہ ملٹی گرین آٹا،جو کا آٹا، ڈرائی مینگوز،بنانا چپس اور سمارٹ ٹریپ نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔
اختتامی تقریب کے موقع پر مینگو گروورز کا کہنا تھا کہ اس طرح کے میلوں کے انعقاد سے تمام اسٹیک ہولڈر ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ہوتے ہیں جس سے نہ صرف آموں کے باغ بانوں کی کپیسٹی بلڈنگ، آم کی ویلیو ایڈیشن اور پروسیسنگ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میلوں سے نہ صرف انفرادی طور پر ہمارے منافع میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی ملک کی برآمدات میں مدد ملے گی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کا کہنا تھا کہ ایسے مینگو فیسٹیولز سے چھوٹے اور بڑے کسانوں کو مستقل بنیادوں پر آم کی پیداواری ٹیکنالوجی برانڈنگ اور پیکجنگ کی کوالٹی اور بدلتی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف تدابیر کے حوالے سے ٹریننگز کا انعقاد کیا جائے گا۔مینگو گروورز نے وائس چانسلر کے اس اقدام کو خوب سراہا اور شکریہ ادا کیا۔
فیسٹیول کے اختتام پر مینگو گروورز کی حوصلہ افزائی کے لیے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے اور پوزیشن ہولڈر میں شیلڈ تقسیم کی گئیں، جس میں پہلی پوزیشن شافع فارمز، دوسری پوزیشن بخاری مینگوز ملتان جبکہ تیسری پوزیشن فروٹوفائی خان گڑھ نے حاصل کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبدالرحمن،رانا آصف حیات ٹیپو، سید جعفر گیلانی سمیت ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مینگو فیسٹیول کا وزٹ کیا۔



















