میٹرک (فرسٹ اینول) امتحانات 2026 کا باقاعدہ آغاز ہوگیا

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کے زیر اہتمام میٹرک (فرسٹ اینول) امتحانات 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
امتحانات کے پہلے روز عربی، جغرافیہ اور تاریخِ پاکستان کے پرچے لیے گئے، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل اور سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔
بورڈ ذرائع کے مطابق دسویں جماعت کے امتحانات 27 مارچ سے 16 اپریل 2026 تک جاری رہیں گے، جبکہ نہم جماعت کے امتحانات 17 اپریل سے 8 مئی 2026 تک منعقد ہوں گے۔ عملی امتحانات کا آغاز 12 مئی سے ہوگا جو 17 جون تک جاری رہیں گے۔
امتحانات میں طلباء کی بڑی تعداد شریک ہے، اعداد و شمار کے مطابق دسویں جماعت کے 1 لاکھ 34 ہزار 50 امیدوار امتحان دے رہے ہیں جن میں 65 ہزار 998 طلبہ اور 68 ہزار 52 طالبات شامل ہیں۔
اسی طرح نہم جماعت میں 1 لاکھ 44 ہزار 922 امیدوار شریک ہیں جن میں 70 ہزار 261 طلبہ اور 74 ہزار 661 طالبات شامل ہیں۔
امتحانات کے انعقاد کے لیے ملتان بورڈ کے چاروں اضلاع میں سینکڑوں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ صرف دسویں جماعت کے لیے 396 مراکز جبکہ نہم اور دسویں جماعت کے مشترکہ طور پر 466 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
ضلع ملتان میں سب سے زیادہ 183 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ خانیوال، وہاڑی اور لودھراں میں بھی مناسب تعداد میں امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔
شفاف امتحانات کے انعقاد کے لیے 4 ہزار 821 سے زائد نگران عملہ تعینات کیا گیا ہے، جن میں سپرنٹنڈنٹس، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس، انویجیلیٹرز اور ڈسٹری بیوٹنگ انسپکٹرز شامل ہیں، اس کے علاوہ 270 رکنی خصوصی انسپکشن اسٹاف بھی تشکیل دیا گیا ہے جس میں چیئرمین اسپیشل اسکواڈ، موبائل اسکواڈز اور دیگر افسران شامل ہیں۔
بورڈ انتظامیہ کی جانب سے نقل کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ 31 حساس امتحانی مراکز میں 201 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے آن لائن مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ لودھراں، ملتان، خانیوال اور وہاڑی کے حساس مراکز کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
مزید برآں، امتحانی عمل کو شفاف بنانے کے لیے خودکار نظام کے تحت ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، سپرنٹنڈنٹس اور دیگر عملے کی جانچ پڑتال کی گئی ہے، جبکہ ضلعی انٹیلی جنس و ویجی لینس کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ مرکزی اور ضلعی کنٹرول رومز بھی فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی شکایت یا ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
بورڈ حکام نے واضح کیا ہے کہ نقل مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


















