Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زرعی یونیورسٹی کی اورک کمیٹی کا اجلاس

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان میں اورک سٹیرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ اورک میں غیر ملکی فنڈنگ ایجنسیوں کی شراکت داری سے آٹھ مختلف ریسرچ میگا پراجیکٹ کامیابی سے تکمیل کی طرف گامزن ہیں۔ مزید کہا کہ ایم این ایس زرعی جامعہ ملتان ملک کی دوسری یونیورسٹی ہے جس کا اورک ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے رجسٹرڈ ہے۔

حال ہی میں زرعی جامعہ ملتان گرین میٹرک رینکنگ میں پاکستان بھر میں پہلے نمبر پر آئی ہے۔ اور انڈونیشیا کے ادارہ کی جانب سے گریب میٹرک کا ایوارڈ ملا ہے۔ جو بہترین کارکردگی اور پائیدار ترقی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف یونیورسٹی بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے لئے اعزا ز کی بات ہے۔

پرنسپل آفیسر اورک پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ علم پر منبی معیشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ہمیں جدت پر مبنی زراعت کو اپنانا ہو گا اور انڈاسٹری سے تعلق کو مزید مضبوط کرنا ہو گا جامعہ ہذا کا شعبہ اورک ون سٹاپ ونڈو کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ انڈسٹری، یونیورسٹیز اور ڈونر ایجنسیز کے ساتھ ملکر کام کرنے کو ترجیح دیتا ہے اورک جامعہ ہذا میں سائنسدانوں کو ریسرچ کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے اور فنڈز کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم این ایس زرعی یونیورسٹی، ملتان اب تک 844 زرعی مکالہ جات چھپوا چکا ہے اور 1289 ملین کی گرانٹس حاصل کر چکا ہے ، اسی طرح 27 بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کروانے 319 پوسٹ گریجوایٹس پیدا کرنے 18 کلائی میٹ سمارٹ ٹیکنالوجی 46 ڈگری پروگرامز شروع کروانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

چوہدی آصف مجید نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری کو یونیورسٹی کے ساتھ ملکر کام کرنے سے مسائل کی صحیح انداز سے نشاندہی ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیڈ، پیسٹی سائیڈ، فرٹیلائیزر، کسان اور فوڈ انڈسٹری کے اداروں کی نمائندگی سے سٹیرنگ کمیٹی کے کام میں مزید بہتری آئے گی انڈسٹری کی جانب سے یونیورسٹی کے لئے ایک خوش آئیند پیغام ہے۔

یہ نمائیندگان یونیورسٹی کی شعبہ اورک کو مانیٹر کریں گے۔ رابعہ سلطان گرمانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ ہمارے پی ایچ ڈی طلبا کو عملی علم کی شدید ضرورت ہے تا کہ و ہ ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ انہوں نے شعبہ اورک کی کارکردگی کو خوب سراہا۔ اجلاس میں 2021 سے 2026 تک مجموعی کارکردگی کے انڈیکیٹر کے بارے میں بات کی گئی بتایا گیا کہ ادارہ کس طرح تعلیم ریسرچ، کاروباری فروغ اور انٹرنیشنل باہمی مفاہمت کی یادداشت کے تحت چلنے والے پراجیکٹ پر کام جاری رکھے گی۔

اجلاس میں دیگر ممبران میں پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، ڈاکٹر عمر فاروق، داکٹر مبشر مہدی، ڈاکٹر عابد حسین، ڈاکٹر مہر افتخار، ڈاکٹر افشاں اور ڈاکٹر رانا نعیم طور نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button