9 واں مینگو فیسٹیول 2025 شروع ہوگیا

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے زیر اہتمام 9واں مینگو فیسٹیول 2025 شروع ہوگیا جس کا چیئر پرسن نیشنل سیڈ ڈیویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے افتتاح کیا۔
اس مینگو فیسٹیول میں آم کی کاشت، تحقیق، پیداوار، ویلیو ایڈیشن، مارکیٹنگ، اور برآمدات سے متعلق مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
اس فیسٹیول میں سائنسدانوں، زرعی ماہرین، آم کے کاشتکاروں، صنعتی نمائندگان، طلبا و طالبات، خواتین اور اہلِ خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔۔
قفتتاحی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ آم پاکستان کی اہم ترین زرعی اجناس میں شمار ہوتا ہے اور یونیورسٹی اس کی ترقی کے لیے سائنسی تحقیق، عملی تربیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آم پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، نرسری منیجمنٹ، کیڑوں پر کنٹرول، اور پیداوار بڑھانے جیسے موضوعات پر تحقیق جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے متعارف کرایا گیا مینگو سمال ٹری سسٹم کاشتکاروں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جو کم جگہ میں زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسمارٹ ٹریپ سسٹم کے ذریعے آم کے کیڑوں کی بروقت شناخت اور تدارک ممکن ہوا ہے، جبکہ پروٹین بیٹ سسٹم کے ذریعے آم کی مکھیوں کے خلاف کامیاب اقدامات کیے گئے ہیں۔
آم کی آن لائن مارکیٹنگ، خشک آم کی ایکسپورٹ، اور یونی فریش برانڈ کے تحت پیکجنگ اور برانڈنگ کے اقدامات آم کی عالمی سطح پر رسائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی کی کوششوں سے مینگو فیسٹیول کو عالمی سطح پر متعارف کروایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی آم بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آم کی ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین مینجمنٹ، اور سمارٹ پیکیجنگ کے ذریعے برآمدات کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاشتکار، تحقیقاتی ادارے اور صنعت باہمی اشتراک سے آم کی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ایسے میلوں سے مینگو کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ ایکسپورٹ میں بھی،جس سے پاکستانی ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آم کی کاشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوان محققین، ماہرین زراعت اور باغبانوں کے درمیان مربوط اشتراک وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کی تحقیقاتی خدمات کو سراہا اور کہا کہ جدید تحقیق، فیلڈ ٹرائلز، اور مارکیٹ لنکیجز کے ذریعے آم کی پیداوار اور معیار میں اضافہ ممکن ہے۔
چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی نے کہا کہ مینگو فیسٹیول آم کی صنعت سے جڑے تمام فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔ یہ صرف نمائش نہیں بلکہ تحقیق، تجربات، اور مشاہدات کے باہمی تبادلے کا بہترین موقع ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کی ٹیم، طلبہ، اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ آم کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں مزید منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھے گا۔
فیسٹیول میں آم کی 200 سے زائد اقسام کی نمائش کی گئی۔ بچوں کے لیے ڈرائنگ مقابلے، خواتین کے لیے غذائیت سے متعلق نشست، آم کھانے کے مقابلے، اور شامِ موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی لی۔
مشاعرہ بھی فیسٹیول کا خوبصورت حصہ رہا جس میں مقامی شعراء نے آم کی ثقافتی اہمیت اور جمالیاتی پہلوؤں پر کلام پیش کیا۔ اسکے علاوہ قوالی نائٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔




















