Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی میں ماں بولی کادن منایا گیا

ویمن یونیورسٹی ملتان میں ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا .

اس تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اور ڈاکٹر فرید شریف تھے۔ اس تقریب کا اہتمام ڈاکٹر میمونہ خان، ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ڈاکٹر شاہدہ رسول کی نگرانی میں کیا گیا ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ انسان کی زندگی میں ماں بولی کی اہمیت کلیدی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہی وہ زبان ہے کہ جس کی مدد سے سب سے پہلے وہ اپنے ماحول سے متعلق واقفیت حاصل کرنا شروع کرتا ہے یا انسان کا اور اُس کے ماحول کا تعلق قائم ہونا شروع ہوتا ہے۔

ابتدائی عمر کے پہلے تین چار سال میں یا سکول جانے سے پہلے ہر بچہ اڑھائی سے تین ہزار الفاظ سے واقفیت حاصل کر چکا ہوتا ہے یعنی جب وہ سکول میں داخل ہوتا ہے اور اُس کا واسطہ اساتذہ اور کتابوں سے پڑتا ہے وہ پہلے سے ہی ماں سے بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔

وہ ممالک جہاں بچوں کو ابتدائی تعلیم ماں بولی میں دی جاتی ہے دراصل بچوں کے ماں بولی میں حاصل شدہ علم کو سکول کی تعلیم کا حصہ بنا لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ سکول میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا اور کتابیں اُسے اپنی اپنی لگتی ہیں اور پڑھائی اُس کیلئے روز کا معمول اور کھیل بن جاتی ہے جن ممالک میں ابتدائی تعلیم ماں بولی میں نہیں دی جاتی وہاں کے بچوں کو ابتدا ہی میں اڑھائی سے تین ہزار الفاظ کی اہلیت ترک کرنا پڑتی ہے جو کہ بچے کیلئے بڑا نقصان ہے۔

پھر دوسری زبان میں کتابیں اُسے اجنبی لگتی ہیں جن کے ساتھ اُس کا قلبی تعلق قائم ہونے میں مشکلات حائل رہتی ہیں اور بہت وقت لگتا ہے جبکہ مقامی اقلیتی اورعلاقائی زبانیں ثقافت،اقدار اورروایتی تعلیم کوآگے منتقل کرتی ہیں اور اس طرح ان کے مستقبل کو بھی سہارا ملتا ہے۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر فرید شریف نے کہا کہ یونیسکو (اقوامِ متحدہ) کے تحت ہرسال 21فروری کو’’عالمی ماں بولی کا دن‘‘ منایا جاتا ہے۔اس دن کا بنیادی مقصد ماں بولی کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔کیونکہ بچہ پہلی زبان یا ماں بولی میں پڑھنے،لکھنے اورگنتی کرنے کی بنیادی مہارتیں سیکھتا ہے۔

پاکستان میں تقریباً 65 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔

پاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی، پشتو، سندھی بلوچی اور شینا ( بلتستان) میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔

پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، بدیشی، باگری، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری شامل ہیں۔ دنیا میں اب بھی بہت سی زبانیں بن اور مٹ رہی ہیں ۔یہ ایک مسلسل اور ارتقائی عمل ہے۔

اس پس منظر میں ’’ماں بولی کا دن‘‘مختلف زبانوں کو زندہ رکھنے میں مددگارثابت ہوناچاہئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر میمونہ خان نے کہا کہ مادری زبان ثقافتی ورثے اور شناخت کو اجاگر کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی مادری زبان پر فخر کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ علاقائی زبانیں ثقافت اور ثقافتی اقدار کو محفوظ رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مادری زبان کے فروغ کے لیے کچھ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، جن میں معاشرے کا اہم کردار، تحقیق اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔اس موقع پر طالبات نے ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہوئے ڈرامے، نغمے اور شعر وشاعری پیش کی۔

تقریب میں اساتذہ اور طالبات نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button