زرعی یونیورسٹی اور بائیورسک کے درمیان ایم او یو سائن

ملتان ایم این ایس زرعی یونیورسٹی اور ایسوسی ایشن اف بائیو رسک مینجمنٹ کے مابین ایک یادداشت پر دستخط کئے گئے، اور باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا ۔
اس ایم آئی یو کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دونوں ادارے مل کر جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہونے والی بیماریوں کے بارے میں آگاہی سیمینار اور ورکشاپ کروائیں گے ، اور جو کیمیکلز سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ان سے کیسے نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے ۔
اس موقع پر وائس چانسلر جامعہ زرعیہ ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ ایسی مشترکہ کاوشیں معاشرہ میں بہتر تبدیلی لانے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ادارے میں بائیو سیفٹی پر ایک کمیٹی پہلے سے تشکیل شدہ ہے ۔اور ہم بائیو سیفٹی کورس ریسرچ کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں ۔
آج کے دور میں جہاں بائیو رسک مینجمنٹ سسٹم کا فقدان موجود ہے اس پر ہمیں خصوصی طور پر توجہ دینا ہو گی، تاکہ ہم اپنی ریسرچ کو بہتر اور محفوظ بنا سکیں ۔
ڈاکٹر جاوید خان (پروگرام ڈائریکٹر )نے اپنی تنظیم ادارے کی کوششوں اور اپنے اہداف کامیابی کے بارے میں آگاہ کیا ۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ اس سے پہلے پاکستان بھر میں مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ بائیو رسک مینجمنٹ کے موضوع پر مفاہمتی یاداشت پر اتفاق رائے کرچکا ہے جس کے تحت ادارے نے 50 سے زائد یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو تربیت دی ہے ۔
ڈاکٹر اصغر خان (ایگزیکٹو ڈائریکٹر )نے زرعی جامعہ ملتان کی بائیو سیفٹی کمیٹی کی خدمات کو سراہا جو کہ اپنی خدمات احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ ون ہیلتھ کے موضوع پر بھی کام کر رہا ہے ۔
آخر میں چیئرمین شعبہ ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز ڈاکٹر جنید علی خاں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی یاداشت ہمارے فیکلٹی ممبران کی کپیسٹی بلڈنگ میں معاون ثابت ہوگی اور اس اشتراک سے ہم اپنی لیبارٹریز کو چیلنجنگ بھی کر سکتے ہیں جس سے لیبارٹریز مزید مضبوط ہوگی ۔
اس موقع پر ڈاکٹر مجاہد خان مس حلیمہ ڈاکٹر حافظ محکم سمیت فکیلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی فیکلٹی موجود تھے۔



















