زرعی یونیورسٹی اور ہاؤس آف راک ولا میں یاداشت پر دستخط ہوگئے

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان اور ہاؤس آف راک ولا کے مابین تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کئے گئے۔
جس کا بنیادی مقصد دونوں تنظیموں کے درمیان کھیتی باڑی کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ نامیاتی کھیتی باڑی وقت کی اہم ضرورت ہے جو کہ انسانی خوراک کو مکمل غذائیت فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے.کیونکہ نامیاتی خوراک ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے
ایک اندازے کے مطابق 2027 تک اس میں سالانہ 4 – 12 فیصد بڑھوتری متوقع ہے جو کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے ایک اچھا موقع ہے۔
ہاؤس آف راک ولا کے چیئرمین سعد خان نے کہا کہ ہم زرعی یونیورسٹی ملتان میں مختلف اجناس جدید ٹیکنالوجی کے تحت اگائیں گے، اور اس کام میں ہم یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کی مناسب اجرت پر خدمات حاصل کریں گے۔
اس موقع پر سنیٹر رانا محمود الحسن بھی موجود تھے۔انہوں نے اس باہمی اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں اس تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی ڈاکٹر محکم حماد رجسٹرار عمران محمود اور ندیم رضا خان موجود تھے۔




















