Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

ملتان اور بہاولپور کو والڈ سٹی اتھارٹی میں شامل کر لیا گیا

جنوبی پنجاب کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور ملتان اور بہاولپور کو والڈ سٹی اتھارٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔
قلعہ کہنہ قاسم باغ کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے پلان تیار کر لیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ کی خوبصورتی اور اسے اصل حالت میں بحال کرنے کے پلان کے حوالے سے کیپیسٹی بلڈنگ کے لئے انسٹی ٹیوٹ فار آرٹ اینڈ کلچر لاہور ،تھاپ (THAP)اور جرس(JIRS) کے اشتراک سے ملتان ٹی ہاوس میں ورکشاپ منعقد کی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ر ثاقب ظفر اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ڈی جی والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کامران لاشاری ،سابق ڈی جی ریڈیو پاکستان خورشید ملک،پروفیسر ساجدہ حیدر ونڈل،ڈاکٹر انوار احمد اور صفی اللہ بیگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ر ثاوقب ظفر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ملتان صدیوں سے آباد چلے آنیوالے دنیا کے چند شہروں میں سے ایک ہے، قدیم آباد شہر ملتان کے وقار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں واقع تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں۔
بہالپور کے تمام تاریخی دروازے اصل میں بحال کر دئے گئے ہیں اور بہاولپور میوزیم کا توسیعی منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ ملتان میں میوزیم کے تعمیر کے لئے جگہ کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب نے والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے ڈی جی کامران لاشاری کی خدمات کو خراج تحسین کیا اور کہا کہ کامران لاشاری نے لاہور کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے شاندار کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تاریخی ورثے کے تحفظ اور تقافت کے فروغ کے لئے کامران لاشاری کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے گا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ جنوبی پنجاب کے تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے کام کرنیوالے ہر ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کامران لاشاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملتان، بہاولپور اور فیصل آباد کو والڈ سٹی اتھارٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کے تحفظ اور بحالی کے پراجیکٹ پر کام کیا جائے گا اور قاسم فورٹ کی مکمل لینڈ سکیپنگ کی جائے گی۔
کامران لاشاری نے کہا کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر کام کرنیوالے سات سرکاری اداروں کو ایک چھتری تلے لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ قلعہ کی تاریخی حیثیت بحال کرنے کے لئے تعمیرات پر پابندی لگائی جائے۔
پروفیسر ساجدہ حیدر ونڈل نے کہا کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کی اصل حدود 95 ایکڑ رقبہ پر محیط ہے۔واٹرورکس روڈ کی طرف قلعہ کی فصیل شکست و ریخت کا شکار ہے۔
پروفیسر ساجدہ ونڈل نے بتایا کہ قاسم فورٹ کی بحالی اور تحفظ کے لئے پانچ تجاویز پر مبنی پلان تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قلعہ میں ٹریفک کے داخلہ پر پابندی کے وجہ سے قلعہ کے اندر جانے کے لئے لاہور کی طرز پر شٹل سروس چلانے کی ضرورت ہے۔
تقریب سے پروفیسر انوار احمد، خورشید ملک اور صفی اللہ بیگ نے بھی خطاب کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button