کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں؛ سیکرٹری سکولز صوبائی سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب مدثر ریاض

ریاض ملک نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب تعلیمی نظام میں بہتری، شفافیت اور میرٹ کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان کے دورے کے دوران کیا، سیکرٹری سکولز نے انہوں جنوبی پنجاب ایجوکیشن سیکرٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مختلف اضلاع کے تعلیمی افسران نے شرکت کی جبکہ محمد امین اویسی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اجلاس میں سکولز کی کارکردگی، انفراسٹرکچر، اساتذہ کی تعیناتی، آو¿ٹ سورسنگ اور انرولمنٹ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مدثر ریاض ملک نے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے سہولیات، کلاس رومز، صفائی کی صورتحال اور تدریسی عمل کا معائنہ کیا۔
انہوں نے خطرناک قرار دی گئی سکول عمارتوں اور کلاس رومز کے حوالے سے بریفنگ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تخمینوں کی تکمیل کے بعد اپ گریڈیشن اور مرمتی کام تیز رفتاری سے مکمل کیے جائیں تاکہ طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مریم نواز شریف کی ہدایت پر تعلیمی شعبے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، اساتذہ کے تبادلوں میں سو فیصد میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کسی سفارش یا دباو کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور میرٹ ہی نظام کی مضبوطی کی بنیاد ہیں۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن نے بتایا کہ صوبہ بھر میں 25 ہزار نئے کلاس رومز اور کمروں کی فوری تعمیر کا عمل جاری ہے جس سے بڑھتی ہوئی انرولمنٹ کو موثر انداز میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور آوٹ سورس سکولز میں انرولمنٹ میں 114 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ آوٹ سورس سکولز کی ہر صورت مو¿ثر اور مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز (AEOs) کو فیلڈ مانیٹرنگ کیلئے مزید متحرک کیا جائے گا تاکہ سکولز کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
سرپلس اساتذہ کو ڈائریکٹر ایجوکیشن کے سپرد کرکے مانیٹرنگ اور سٹوڈنٹ ایویلیوایشن کے عمل میں شامل کیا جائے گا جبکہ انہیں مانیٹرنگ ایپ تک رسائی دے کر طلباء کے ٹیسٹ لینے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
مدثر ریاض ملک نے مزید بتایا کہ ایسے سکولز جہاں 150 سے کم طلبہ یا صرف تین اساتذہ موجود ہیں، انہیں فوری طور پر آوٹ سورس کرنے کیلئے فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں تاکہ وسائل کا بہتر استعمال اور تعلیمی نتائج میں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اصلاحات کے اہداف کے حصول کیلئے ٹیم ورک، موثر نگرانی اور ذمہ دارانہ طرز عمل اپنایا جائے تاکہ سرکاری سکولوں پر والدین کا اعتماد مزید مستحکم ہو اور صوبے میں معیاری تعلیم کا فروغ یقینی بنایا جا سکے۔

















