نئے پنشن قوانین نے زکریا یونیورسٹی کی سیکورٹی برانچ کی جڑیں ہلا دیں

پینشن کے نئے قوانین نے زکریا یونیورسٹی کی سکیورٹی برانچ کی جڑیں ہلا کر رکھ دی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت زکر یونیورسٹی کے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 180 کے قریب ہے، ماضی میں یہ تعداد 300 سے زائد تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اہلکاروں کے ریٹائرڈ ہونے اور انتقال کرنے کی وجہ سے یہ تعداد کم ہو کر 180 تک پہنچی ہے مگر اس میں اب بڑا کٹ لگنے والا ہے۔
جس کی وجہ یونیورسٹی حکام کی طرف سے جاری ہونے والا مراسلہ ہے جس میں کہاگیاہے کہ نئے پینشن قوانین کے تحت ایسے ریٹائرڈ ملازمین جو پنشن وصول کررہے ہیں اور ڈیوٹی بھی کررہے ہیں ان کو پنشن یا تنخواہ میں سے ایک وصول کرنا ہوگی۔
اس وقت زکریا یونیورسٹی کے سکیورٹی میں 50 سے زائد ریٹائرڈ فوجی بھی ڈیوٹی کر رہے ہیں، کچھ کنٹریکٹ اور کچھ مستقل طور پر کام کررہے ہیں، جن کی مدت ملازمت 20 سال سے زائد ہو چکی ہے ۔
یونیورسٹی کی طرف سے جاری ہونے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ایک ایسا پنشنر جو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرتا ہے چاہے وہ ریگولر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہو یا کسی اور طریقے پر ہو اس کو اختیار ہوگا وہ اپنی پینشن یا ملازمت کی تنخواہ پر ایک کا چناؤ کرے۔
اس فیصلے کے بعد تمام سیکورٹی گارڈز میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی، ان کا یہ کہنا یہ ہے کہ وہ وفاق کے زیر اہتمام کام کرتے رہے ہیں اور اپنی پینشن بھی وفاق سے لے رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے ملنے والی تنخواہ کی نوکری بعد میں کی ہے۔
ایک وقت میں ایک تنخواہ کی وصولی ناممکن سی بات ہے کیونکہ جو پینشن ہمیں دی جا رہی ہے وہ ملنے والی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے، ایسی صورت میں وہ اپنی نوکری کو جاری نہیں رکھ سکیں گے، 50 سے زائد سکیورٹی گارڈ اگر یہ فیصلہ فوری طور پر کرتے ہیں تو زکریا یونیورسٹی کی سکیورٹی کم ہو کر 130 کے قریب رہ جائے گی، جس سے کیمپس کی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، جس کی وجہ سے سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کے خدشات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان صورتحال میں زکریا یونیورسٹی حکام نے حقائق کو مد نظر نہیں رکھا اور صوبائی مراسلے کو فوری نافذ کردیا، جس کی مضمر اثرات سامنے انے کو ہیں اگر 31 جولائی 2025 کو یونیورسٹی انتظامیہ ان ملازمین کو تنخواہ یا پینشن کی مد میں ایک ادائیگی کرتی ہے تو 50 سے زائد افراد نوکری چھوڑ جائیں گے، جس یونیورسٹی کی سکیورٹی صرف 130 افراد پر مشتمل ہو جائے گی اور جس کی وجہ سے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔
فوجی سکیورٹی گارڈ نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلے پر نظر ثانی کریں اور وفاق سے ملنے والی پنشن اور پنجاب سے دی جانے والی تنخواہوں کا معاملہ الگ الگ رکھیں۔




















