زکریا یونیورسٹی میں نان پروفیشنل سیکورٹی آفیسر کا تجربہ پھر ناکام، وارداتیں پھر شروع

زکریا یونیورسٹی حکام کے تجربات نے زکریا یونیورسٹی کو سیکورٹی رسک بنادیا، نان پروفیشنل افراد کو سیکورٹی آفیسر بنانے کا تجربہ پھر ناکام ہوگیا، کیمپس میں وارداتیں بڑھ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی میں وارداتیں کنٹرول نہ ہوسکیں، ایک اور سیکورٹی آفیسر تبدیل کردیا گیا
یونیورسٹی انتظامیہ نے لائبریری اسسٹنٹ سجاد میتلا کو سیکورٹی آفیسر بنادیا جن کو سیکورٹی انتظامات بارے کوئی تجربہ نہیں ہے، جس کا رزلٹ یہ نکلا کہ ان کی تعیناتی کے پہلے ہفتے میں کوئی دن بھی واردات سے خالی نہیں گیا ۔
سیف پارکنگ کے نام سے بنائی گئی کار پارکنگ چوروں کےلئے آسان ہدف بن گیا ، چیئرمین شعبہ اردو اور ہاسٹل وارڈن پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی گاڑی سے نامعلوم چور ان کے وہیلز اتار کرلے گئے، چوروں نے صرف 15 منٹ میں واردات مکمل کی ، جبکہ اس پارکنگ میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں جبکہ ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی گارڈ سیٹ سے غائب تھا، جب اس بارے سیکورٹی آفیسر سے پوچھا گیا تو پہلے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے، پروفیسر غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں۔
تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ چوری کی چھان بین شروع کردی گئی ہے، مراسلہ جاری کردیا گیا ہے امید ہے جلد چوری مل جائے گی۔



















