وزیراعظم کا پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
وزیراعظم عمران خان نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکسز سے استثنیٰ دینے ، اسکالرشپ اور اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ دینے کا اعلان کر دیا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر مہنگائی کے باوجود عوام کو ریلیف دیتے ہوئے یٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس اوریوکرین جنگ کی وجہ سے خوف ہےتیل کی قیمتیں بڑھیں گی دنیا کی 30 فیصد گیس روس یوکرین سےآتی ہے، قیمت بڑھے گی۔
پاکستان میں آج بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہیں، اپوزیشن تنقید کرتی ہے، ان کےپاس کیاحل ہے اگر اپوزیشن کےپاس تیل کی قیمتوں کے پاس کوئی تجویز ہےتو بتائے۔
پاکستان میں سبسڈی نہ دیں توفی لیٹر قیمت 220 روپے ہو، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کے خدشے کے باوجود قیمتیں بڑھانے کی بجائے کم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپےکمی کر رہےہیں جب کہ بجلی کی قیمت میں5 روپے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں۔
فیصلہ کیا ہے آئندہ بجٹ تک بجلی اورتیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے، 50سال میں پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنائےگئے، 10ڈیم بنارہےہیں، جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حساس پروگرام کے جو 12ہزار روپے ملتےتھے انہیں14ہزار کر دیا ، جب کہ 26لاکھ اسکالرشپس لارہےہیں، جس پر38ارب روپےخرچ ہوں گے ، اسکالرشپ میرٹ پردی جائیں گی، کسی کومسئلہ ہو تو پورٹل پرشکایت کرے گا۔
عمران خان نے اعلان کیا کہ آئی ٹی سیکٹر میں فری لانسرز اور کمپنیوں کو 100فیصد ٹیکس معاف کر دیا ہے، آئی ٹی سیکٹرمیں فارن ایکسچنج کی موومنٹ پر100 فیصدبچھوٹ دےبدی گئی ہے ، آئی ٹی اسٹارٹ اپ کو 100 فیصدکیپٹل گین ٹیکس پر چھوٹ دے دی گئی ہے، انڈسٹری سےمتعلق کل لاہورمیں پیکج سےمتعلق آگاہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے صحت کارڈ سے متعلق کہا کہ خواہش ہے ہر پاکستانی شہری کےپاس ہیلتھ انشورنس ہو، صحت کارڈ کی ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسی اسکیم نہیں ہے ،پنجاب میں ہر گھرانے کے پاس مارچ کے آخرتک صحت کارڈ ہو گا، ہیلتھ کارڈ کے ذریعےکسی بھی اسپتال سےعلاج کرایا جا سکتاہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستان جو سرمایہ کاری کریں گے ، انہیں 5سال ٹیکس چھوٹ دیدی ہے ۔
اوورسیز پاکستان جو جوائنٹ وینچر کریں گے ، انہیں بھی5سال ٹیکس چھوٹ ہوگی، کسانوں اورگھروں کی تعمیر کیلئے آئندہ 2سال میں407 ارب کےقرضےدیں گے۔
جب کہ تنخواہ دارطبقےکو بینک قرضے نہیں دیتے تھے، تاہم بینک اب تک 50ارب روپےگھروں کی تعمیر کیلئے قرضے دےچکےہیں۔
وزیراعظم نے خطاب کا آغاز عالمی افق پر تنازعات، دہشتگردی اور جنگوں کے تناظر میں آزاد خارجہ پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیامیں بڑی تیزی سےصورتحال بدل رہی ہے، پاکستان پربھی دنیاکی تیزی سےبدلتی صورتحال کے اثرات پڑ رہے ہیں۔
معاشی صورتحال اورفارن پالیسی کیلئےدو اہم دورے کیے ۔
چین اور روس کےاہم دورے کیے ہمیشہ آزاد فارن پالیسی کاسوچا ہے، آزاد فارن پالیسی کامطلب ہے ہمیشہ اپنےعوام کیلئےسوچنا، امریکا کیساتھ وارآن ٹیررمیں حصہ لیا تو شروع سےکہا اس کاحصہ نہیں بنناچاہیے ہم نےسوویت یونین کیخلاف امریکا کیساتھ افغانستان میں شرکت کی۔
دورہ روس کی وجہ بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ روس سے ہمیں20 لاکھ ٹن گندم اور گیس درآمد کرنی ہے، روس میں دنیا کی 30 فیصد گیس ہے جس کی ضرورت پاکستان کو ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیکا قانون 2016 میں بنا تھا، جس میں ترمیم کر رہے ہیں جو سربراہ قانون نہیں توڑتا اسے کبھی آزاد صحافت یا میڈیا سےخطرہ نہیں ہوتا، 70 فیصدبخبریں میڈیا میں ہمارےخلاف آئیں لیکن فرق نہیں پڑا، پیکاقانون سوشل میڈیا پر آنے والے گند کو روکنے کیلئے لا رہےہیں۔
چائلڈ پورنوگرافی، سوشل میڈیا پر انتہائی غلیظ چیزیں آرہی ہیں، ایف آئی اے کے پاس سوشل میڈیاسے متعلق 94 ہزار کیسز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تک کیخلاف نازیبا اور غیر اخلاقی مہم چلائی جارہی ہے۔
پہلے کہا گیا وزیراعظم نے بنی گالہ میں غلط کام کیا آج 3 سال ہوگئے، غلط خبردینےوالےصحافی کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی۔
اسی صحافی نےپھر خبر دی کہ وزیراعظم کی اہلیہ گھر چھوڑ کر چلی گئی، جو غلط ہے لیکن صحافی کیخلاف پھربھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کو 3 سال سےانصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا ہو گا؟
جنگ جیو گروپ نےشوکت خانم اسپتال کیخلاف بےبنیاد خبر دی ، کہا گیا شوکت خانم کےفنڈ کےں پیسے پی ٹی آئی کیلئےاستعمال ہو رہے ہیں ، شوکت خانم اب جنگ جیو کیخلاف یوکے میں کیس کرنے جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے صحافی بیٹھے ہیں جو پیسے لے کر گند اچھال رہےہیں، ساری زندگی تنقید برداشت کی ہے ۔
جو غیرذمہ دارانہ چیزیں یہاں آتی ہیں کسی اورجمہوری ملک میں نہیں ہوتا، پیکاقانون کاکوئی آزادی صحافت سے تعلق نہیں ہے۔
اچھے صحافی پیکا قانون سےخوش ہونگے، کیونکہ جعلی خبریں رکیں گی ۔
خواتین سےمتعلق گند اچھالناکسی کوزیب نہیں دیتا اندازہ لگائیں، وزیراعظم آزادبکشمیرکا انتخاب کیا گیا تو تنقید کی گئی، یہ کہاگیا جادو ٹونے سے وزیراعظم آزادکشمیر کا انتخاب کیا گیا اس قسم کی خبرکسی اورملک میں چلائی جاتی تو کیسز ہوتے۔
وزیراعظم نے کورونا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں معیشت ملی تو پاکستان کاسب سےبڑاخسارہ تھا ۔
پاکستان کی تاریخ میں سب سےبڑاڈیفسٹ تھا، ہمارے فارن ریزرو 3ماہ کیلئےبھی نہیں تھے، پہلےہی مشکل حالات تھے، اوپربسے کورونا نے بھی معیشت کومتاثرکیا۔
کوروناکی وجہ سےلاک ڈاؤن ہوا، جس کی وجہ سے مسائل ہوئے، سپلائی لائنز متاثر ہوئیں، کموڈٹیز تاریخی مہنگی ہوئیں۔
وزیراعظم کا مہنگائی پر تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا گیا حکومت ہٹادو مہنگائی لائی،عالمی صورتحال بھی دیکھ لیں ۔
پیپلزپارٹی کے چوتھے دور میں13.8فیصد مہنگائی ہوئی، ن لیگ کے پہلے دور میں 10.8، دوسرے دور میں 7.2فیصد مہنگائی ہوئی، ن لیگ کےتیسرے دور میں تیل کی کم قیمت ہونے کے باوجود 5 فیصد مہنگائی ہوئی۔
پی ٹی آئی کے 3سال میں8.7 فیصد مہنگائی ہوئی، مہنگائی ہے، لیکن اس کی وجہ کیاہے وہ بھی دیکھنا چاہیے ، مہنگائی صرف پاکستان نہیں دنیابھرمیں آئی ہوئی ہے۔



















