Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

"جی ایم او مکئی : جدت اور اثرات” کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے زیرِاہتمام “جی ایم او مکئی: جدت اور اثرات” کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا۔

سیمینار میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈاکٹر خالد عزیز (سینئر مینیجر ایگری بزنس) نے بطور گیسٹ سپیکر شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر حماد ندیم، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ بایو ٹیکنالوجی نے کہا کہ یہ سیمینار یونیورسٹی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت نئی ٹیکنالوجیز پر علمی اور پالیسی سطح پر مکالمے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر خالد عزیز نے مکئی کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت، اور موجودہ مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ مکئی پاکستان میں گندم اور چاول کے بعد تیسری بڑی فصل ہے، جو سالانہ 10 تا 11 ملین ٹن پیداوار دیتی ہے اور اس کا 70 فیصد سے زائد حصہ پولٹری اور فیڈ انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان کو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا، مگر ان کے نفاذ میں مکمل تیاری اور احتیاط لازمی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جی ایم او سمیت تمام ابھرتی ہوئی زرعی ٹیکنالوجیز کے بارے میں قومی سطح پر مکالمہ ہونا چاہیے تاکہ سائنسدانوں، صنعت کاروں، پالیسی سازوں اور کسانوں کے خیالات کو شامل کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا جا سکے جو ملکی زراعت، خوراک کی سلامتی اور برآمدات کے لیے مفید ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button