ایمرسن یونیورسٹی نامنظور، اساتذہ کا احتجاج،سٹرکیں بلاک
ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری

ایمرسن یونیورسٹی نامنظور، اساتذہ کا احتجاج،سٹرکیں بلاک
۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر طارق بلوچ پروفیسر ارشاد حسین ملک پروفیسر عبدالغنی نیازی ڈاکٹر علمدار نبی ڈاکٹر سلیم اعوان پروفیسر صغیر احمد پروفیسر حافظ ارشاد نے شرکت کی۔
ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مظاہرین نے نواں شہر چوک بلاک کردیا۔گزشتہ روز ہونے والے مظاہرے میں گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر طارق بلوچ پروفیسر ارشاد حسین ملک پروفیسر عبدالغنی نیازی ڈاکٹر علمدار نبی ڈاکٹر سلیم اعوان پروفیسر صغیر احمد پروفیسر حافظ ارشاد نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ذاتی دلچسپی لےکر ایک آرڈیننس کے ذریعے سو سالہ تاریخی گورنمنٹ ایمرسن کالج کو ختم کردیا۔
جنوبی وسیب کے اس غریب پرور کالج نے نامور شخصیات پیدا کیں۔ جو نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ملتان شہر میں 1951 کے بعد لڑکوں کے لیے ایک بھی نیا کالج نہیں بنا۔بلکہ وہ کالج جس میں 10 ہزار طلباء وطالبات سستی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اسے بغیر سوچے سمجھے ختم کر دیا۔ملتان کے لوگوں سے پہلے بھی ایک تاریخی گرلز کچہری کالج چھین چکے ہیں۔حکومت یونیورسٹی کے نام پر دھوکہ دے رھی ہے۔ حکومت یونیورسٹیاں بنائے مگر غریبوں کے کالج ختم نہ کرے۔ایمرسن کالج کو بحال کیا جائے گورنمنٹ جتنی چاہے یونیورسٹیاں بنائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں مگر ان کالجزکو مت ختم کریں ۔ اس وقت ایمر سن کالج میں ہزاروں غریب طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں ہیں ان کے لیے اعلی تعلیم کے راستے بند نہ کرے۔


















