دالوں کی ویلیو چین پروجیکٹ کا اختتامی پالیسی مکالمہ

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ،پی۔ اے۔ آر۔ سی، اسلام آباد اور آسٹريلين ادارہ برائے بين الاقوامی زرعی تحقيقات کے زیرِ اہتمام دالوں کی ویلیو چین پروجیکٹ کا اختتامی پالیسی مکالمہ مقامی ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
پروجیکٹ کی ٹیم نے پاکستان میں دالوں کے شعبے کے لیے 2020-2025 کے پانچ سالہ اقدامات کی بنیاد پر ایک جامع دالوں کی انڈسٹری ڈویلپمنٹ اور حکمت عملی تیار کی ہے۔
اس پالیسی فورم میں اس اسٹریٹیجی دستاویز کے اہم نکات پیش کیے گئے اور اس پر بات چیت ہوئی۔
پروجیکٹ لیڈر یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے ڈاکٹر راجيندراہ ادهیکاری نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور دالوں کی ویلیو چین پروجیکٹ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ملکی تاريخ ميں پہلی بار تیار ہونے والی اس انڈسٹری اسٹریٹیجی دستاویز کی اشاعت کی تعریف کی جو یقینی طور پر پالیسی سازوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔
دستاویز کی اہم بات یہ تھی کہ کسانوں کو گریڈنگ، صفائی، برانڈنگ اور باہمی اشتراک کے ذریعے دالوں کو اگانے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ کامیاب مارکیٹ سے کاروباری تعلقات قائم کیے جا سکیں۔
اس سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) چیئرمین نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے کی۔ انہوں نے پاکستان کے لیے پہلی بار انڈسٹری ڈویلپمنٹ حکمت عملی تیار کرنے پر ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور اس دستاویز کو محققین، اکیڈمیشنز اور پالیسی ورکرز میں وسیع پیمانے پر گردش کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے خاص طور پر سیڈ ویلیو چین کی ترقی کے لیے اس اسٹریٹیجی دستاویز پر کام کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، اس فورم میں سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ڈائریکٹرز جنرل ریسرچ اینڈ ایکسٹینشن نے شرکت کی۔
ممبر پلاننگ کمیشن ڈاکٹر مبارک علی، ڈائریکٹر پلسز ڈاکٹر خالد حسین اور ترقیاتی اداروں ورلڈ بینک، لوک سانجھ فاؤنڈیشن، پودا کے نمائندوں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔
چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام صادق آفریدی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس سرگرمی کی قیادت کرنے پر پی اے آر سی ٹیم کی کاشوں کو سراہا۔




















