پیف انتظامیہ اورپارٹنرز کی سینٹر سیف اللہ سے ملاقات

پیف انتطامیہ اور پارٹنرز کے نمائندوں نے سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی سے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پیف کی طرف سے ڈائریکٹر(فنانس، ایچ آر اینڈ ایڈمن) زبید الحسن، ڈائریکٹر(مانیٹرنگ) ایاز احمد عرفی، ریجنل ڈائریکٹر(راولپنڈی) نوید عباس اور اسسٹنٹ دائریکٹر(ایم ڈی کوآرڈینیشن سیل)جنید حمیدنے پیف کی نمائندگی کی ، جبکہ پیف پارٹنرز کی طرف سے امان اللہ خان نیازی اور دیگر سربراہان شریک ہوئے۔
اس موقع پر بتایا کہ پیف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بہترین ماڈل ہے، جو خاص طور پر پنجاب کے غریب اور مستحق طبقے تک معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کم بجٹ کی وجہ سے گذشتہ کچھ سالوں سے پارٹنرز کی فیس نہیں بڑھائی گئی جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں پیف کا بجٹ بڑھانے کی درخواست کی گئی تھی تاکہ پارٹنر سکولوں میں فیسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ نئے داخلے بھی کئے جا سکیں، اگرپیف کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تو مزید 10لاکھ بچوں کوپیف کے تعلیمی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ 6سالوں سے فیسوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے پیف پارٹنرز کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ لہذا پیف کا بجٹ بڑھایا جائے تاکہ پیف پارٹنرز تعلیم کے میدان میں اور بھی بہتر انداز سے کام کرسکیں۔
اس موقع پر سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ پاکستان میں پیف ایک بہترین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل ہے جس میں حکومت اور پرائیویٹ لوگ مل کر بہترین تعلیمی نظام چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ اس معاملے پر وزیر اعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب سے خود بات کریں گے اور پیف کا بجٹ بڑھانے کا مطالبہ کریں گے۔



















