سیلاب سے تباہی : پیف حکام پارٹنر سکولوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشنمیں منیجنگ ڈائریکٹر پیف اسد نعیم کی زیر صدارت 47ویں پروگریس ریویو میٹنگ کا انعقاد ہوا۔
اس میٹنگ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود پیف سکولوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ کے دوران ایم ڈی پیف نے کہا کہ انہیں اس بات کابخوبی ادراک ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پیف پارٹنرز اور وہاں کے رہائشی کس قدر مشکل حالات میں ہیں۔
ایم ڈی پیف نے تمام پروگرام ڈائریکٹرز بالخصوص ریجنل ڈائریکٹرز (راولپنڈی اور ملتان) کو ہدایات دیں کہ وہ راجن پور، ڈی جی خان،بھکر، میانوالی، اور مظفر گڑھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے پیف پارٹنر ز سے رابطہ کریں، اور خود ان علاقوں کا وزٹ کریں اور پیف پارٹنرز کو اس بات کا یقین دلائیں کہ اس مشکل گھڑی میں ناصرف پیف انتظامیہ اپنے تمام پیف پارٹنرز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ، بلکہ متاثرین کی بحالی تک پیف انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔
میٹنگ کے دوران ایم ڈی پیف نے شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور چولستان میں موجود پیف سکولوں کی مانیٹرنگ کو فی الوقت مؤخر کر نے کی ہدایات جاری کیں، اور ایسے علاقے جہاں تاحال شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں روزانہ کی بنیاد پر اُن علاقوں کے سکولوں کی نشاندہی کر کے اُن سکولوں کی مانیٹرنگ کو ری شیڈول کرنے کے احکامات دیے۔
میٹنگ کے دوران ایم ڈی پیف نے ڈائریکٹر (M&E)اور پروگرام ڈائریکٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہ سکولوں کی فہرستیں مرتب کریں، تاکہ حکومتِ پنجاب کو تباہ حال پیف پارٹنر سکولوں کی مالی معاونت کی فراہمی کے لیے اپیل کی جا سکے۔
میٹنگ کے دوران ایم ڈی پیف نے کہا کہ حکومتِ پنجاب سے گرانٹ کے حصول کے لیے حتیٰ الوسع کوشش کی جائے گی، تاہم کسی بھی رکاوٹ اور مشکل کی صورت میں یہ معاملہ پیف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نوٹس میں لایا جائے گا تاکہ پیف کے موجودہ فنڈز میں سے گنجائش نکال کر شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ پیف سکولوں کے لیے مالی معاونت برائے بحالی ِسکول کا انتظام کیا جاسکے۔
میٹنگ میں ایم ڈی پیف نے ہدایات جاری کیں کہ شدید بارشوں اور سیلا ب سے متاثر ہونے والے تمام پیف پارٹنرز پر ماہ جولائی کی باقی ماندہ پیمنٹ اور ماہ اگست کی پوری پیمنٹ پر کسی قسم کے جرمانے اور کٹوتیاں نہیں لگائی جائیں گی۔
میٹنگ میں دیگر اہم ایجنڈوں پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔


















