پنجاب حکومت نے ماڈل یونیورسٹیز ایکٹ کے مسودے پر دوبارہ کام شروع

پنجاب حکومت یونیورسٹیز کی خودمختاری بیوروکریسی کو دینے کے در پے ہے، وائس چانسلر سے اختیارات چھین کر بیوروکریسی کو دیئے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ماڈل یونیورسٹیز ایکٹ کےمسودے پر خفیہ میٹنگز کا انعقاد کیا گیا ہے، یونیورسٹیز کے اختیارات بیوروکریسی کےماتحت کرنےکی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ماڈل یونیورسٹیزبایکٹ کے تحت سنڈیکیٹ کا چیئرمین ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوگا، سلیکشن بورڈ ممبران کی تقرری کا اختیار چیئرمین سینڈیکیٹ کے پاس ہوگا، یونیورسٹیزکی خودمختاری چھیننےکا ایکٹ خفیہ طور پر تیار کرکے صوبائی اسمبلی بھیجا جائیگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت 2004 کے بعد بننے والی یونیورسٹیوں میں مداخلت کرنا چاہتی ہے جس اب شدید ردعمل آنے کا امکان ہے، ملتان میں بننے والی نئی یونیورسٹیوں کے سربراہو ں نے بھی اس بارے میں اپنےتحفظات کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ بیورکریسی کی موجودگی میں یونیورسٹیوں کو چلانا ناممکن ہوجائے گا۔


















