ریجنل ایگریکلچر فورم کا چھٹا اجلاس

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں ریجنل ایگریکلچر فورم کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا، جس میں زرعی تحقیق، کاٹن پلان 2026، اور مختلف جاری منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں جامع منصوبہ بندی کے تحت زرعی ترقی، تحقیق کے فروغ، اور جنوبی پنجاب میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کے مؤثر نفاذ سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈیجیٹل انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس کا مقصد تحقیقی وسائل کے مؤثر استعمال اور شفاف ریکارڈ کیپنگ کو یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں جدید فصلوں کی نمائشی پلاٹس کے قیام، نئی اقسام کی کارکردگی کے عملی مظاہرے، اور کسانوں تک جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایڈاپٹو ریسرچ فارم میں موجود ٹنلز کی بحالی اور انہیں کاشت کے لیے فعال بنانے کے اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔
کاٹن پلان 2026 کے حوالے سے بتایا گیا کہ کپاس کی پیداوار اور معیار میں بہتری کے لیے جامع تحقیقی پروگرام پر عمل جاری ہے، جس میں جرمپلاسم کے تحفظ و بہتری اور علاقائی سطح کے مربوط تجربات، منظور شدہ اقسام کے پری بیسک بیج کی پیداوار، اور معیاری ورائٹی ٹرائلز کی دیکھ بھال شامل ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی رنگدار کپاس کی بہتری، گندم کے بعد نرسری کے ذریعے کاشت بمقابلہ براہِ راست بوائی کے معاشی اثرات، مختلف پودوں کی بوائی کے اوقات کا پیداوار اور فائبر کوالٹی پر اثر، اور سفید مکھی کے مؤثر تدارک کے لیے انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ (IPM) حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جدید زراعت کی دوسری تربیت کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے جس میں 20 شرکاء نے حصہ لیا۔ اس پروگرام کے تحت نجی زرعی کمپنیوں کے تعاون سے تربیت یافتہ افراد کو انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
پلانٹ پیتھالوجی اور انٹومولوجی کے شعبہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، گندم کے فیلڈ سروے، آم کی بیماریوں پر تحقیق، اور طلبہ کے تعلیمی و تربیتی دوروں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے اپنے خطاب میں کہا کہ محمد نواز شریف زذعی یونیورسٹی تحقیقی اداروں اور انڈسٹری کے باہمی تعاون اور اشتراک سے جنوبی پنجاب کے زرعی مسائل کے حل اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے عملی اور زرعی مسائل حل کرنے والی تحقیق پر توجہ دے رہی ہے۔
اجلاس میں ادارہ جاتی اشتراک، سرکاری و نجی شعبے کے تعاون، کسان دوست تحقیق، اور نتائج کو عملی میدان تک منتقل کرنے کی حکمتِ عملی پر زور دیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنوبی پنجاب میں زرعی پیداوار میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔
اس موقع پر سپیشل سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب سمیت دیگر تمام سٹیک ہولڈر موجود تھے۔




















