صوبے کی جامعات میں تحقیقی مراکز (آر اینڈ ڈی کلسٹرز) کے قیام کا فیصلہ

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) نے ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کے چیلنجز سے نمٹنے اور اس حوالے سے تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے صوبے کی جامعات میں تحقیقی مراکز (آر اینڈ ڈی کلسٹرز) کے قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی چھ جامعات کو منتخب کیا گیا ہے جو باہمی اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کریں گی۔
اس سلسلے میں 10 مارچ 2026 کو پی ایچ ای سی کے زیر اہتمام چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن پی ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کی۔ اجلاس میں کلسٹر میں شامل جامعات کے کردار، مقاصد، تحقیقی سرگرمیوں اور متوقع نتائج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گی۔
اس تحقیقی کلسٹر کی قیادت بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (بی زیڈ یو) ملتان کر رہی ہے، اجلاس کے دوران بی زیڈ یو کے پروفیسر ڈاکٹر ناظم حسین، ڈاکٹر فاروق قیوم اور ڈاکٹر محمد داؤد نے رکن جامعات کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
کلسٹر میں شامل دیگر جامعات میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوکیل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹرتنویر شہزاد، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کے ڈاکٹر ریحان احمد، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اخیار فرخ اور جامعہ اسلامیہ بہاولپور شامل ہیں۔
اجلاس میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور کے شعبہ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر واجد نعیم جتوئی نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق قیوم نے فروری سے جون 2026 تک کے لیے منصوبے کے اہداف، مجوزہ تحقیقی سرگرمیوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن پی ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پیش کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے ان پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس منصوبے کے لیے پی ایچ ای سی کی جانب سے 10 ملین روپے کا بجٹ منظور کر لیا گیا ہے جو جلد ہی لیڈ یونیورسٹی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو جاری کر دیا جائے گا۔
یہ فنڈز کلسٹر میں شامل دیگر جامعات میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے تحقیقی منصوبوں، اسٹارٹ اپس اور متعلقہ اقدامات پر عملی کام کا آغاز کر سکیں۔




















