Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ایک طالبعلم پر کتنا خرچہ ۔ ۔ ۔ ؟؟ محکمہ سکولز حساب کتاب کرنے لگا

محکمہ سکولز نے فی طالب علم خرچ کی تفصیل جاننے کےلئے پنجاب بھر کے سکولوں سے ریکارڈ طلب کرلیا۔

بتایاگیا ہے کہ محکمہ سکول ایجوکیشن نے صوبے بھر کے تمام سرکاری سکولوں سے فی طالب علم لاگت سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

اس ضمن میں باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں مقررہ مدت کے اندر مکمل، درست اور تصدیق شدہ ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مراسلے کے مطابق یکم جولائی 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک کے عرصے کا مکمل مالی و انتظامی ڈیٹا فراہم کیا جانا لازم ہوگا۔

محکمہ سکول ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ معلومات پرائمری، ایلیمنٹری، ہائی اور ہائر سیکنڈری سطح کے سکولوں سے الگ الگ جمع کی جائیں تاکہ ہر تعلیمی سطح پر فی طالب علم اخراجات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

محکمہ کی جانب سے اس امر کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز اور دیگر انتظامی دفاتر کی تنخواہیں اس حساب کتاب میں شامل نہیں کی جائیں گی، بلکہ صرف سکول سطح پر ہونے والے اخراجات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ان اخراجات میں تدریسی عمل، سکول آپریشنل اخراجات اور دیگر متعلقہ مدات شامل ہوں گی۔

مراسلے میں تمام متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ مطلوبہ ڈیٹا پانچ جنوری تک ہر صورت محکمہ سکول ایجوکیشن کو ارسال کیا جائے۔

واضح کیا گیا ہے کہ تاخیر، نامکمل یا غیر مصدقہ ڈیٹا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور اس حوالے سے متعلقہ افسران و سربراہان ذمہ دار ہوں گے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کے ذرائع کے مطابق فی طالب علم لاگت سے متعلق یہ ڈیٹا تعلیمی منصوبہ بندی، بجٹ کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری سکولوں میں وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کی تعلیمی پالیسی، اصلاحات اور مالی فیصلے کیے جائیں گے تاکہ سرکاری تعلیمی نظام کو مزید بہتر اور شفاف بنایا جا سکے۔

تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی طالب علم لاگت کا درست تعین نہ صرف مالی نظم و ضبط میں مدد دے گا بلکہ سرکاری سکولوں کے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button