محکمہ سکول ایجوکیشن کی سستی برقرار، 23 ہزار سے زائد کم تعلیم یافتہ اساتذہ کی پری میچور ریٹائرمنٹ التواء کا شکار

محکمہ سکول ایجوکیشن کی سست روی کے باعث صوبے بھر میں 23 ہزار سے زائد کم تعلیم یافتہ اور ضعیف اساتذہ کی پری میچور ریٹائرمنٹ کا عمل تاحال شروع نہ ہو سکا، حالانکہ اس مقصد کے لیے ڈیٹا گزشتہ سال ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے اساتذہ کو پری میچور ریٹائرمنٹ کی آپشن دی جانا تھی، جس کے تحت گزشتہ سال گرمیوں کی تعطیلات کے دوران متعلقہ اساتذہ کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ ان اساتذہ میں 14 ہزار میٹرک پاس جبکہ 9 ہزار انٹر پاس اساتذہ شامل ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سیکرٹری سکول ایجوکیشن خالد نذیر وٹو کی تبدیلی کے بعد سے یہ اہم معاملہ فائلوں کی نذر ہو گیا ہے اور پری میچور ریٹائرمنٹ کا عمل مسلسل التواء کا شکار ہے، جس کے باعث سینکڑوں ضعیف اساتذہ ریٹائرمنٹ کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ اساتذہ کے پاس پروفیشنل ڈگری نہ ہونے کے باعث وہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ تمام نصاب انگریزی زبان میں ہونے کے باعث انہیں تدریسی عمل میں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پری میچور ریٹائرمنٹ کے عمل کو بروقت مکمل کیا جائے تو نہ صرف تعلیمی معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ نئے، تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی سے سکولوں میں تدریسی خلا کو بھی پُر کیا جا سکتا ہے۔




















