12 ہزار سے زائد سکول ٹیچرز انٹرنز کو تاحال 3 ماہ سے تنخوہیں نہ مل سکیں، احتجاج کا اعلان

پنجاب بھر میں 12 ہزار سے زائد سکول ٹیچرز انٹرنز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے، جس کے باعث شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
متاثرہ انٹرنز کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں مگر مسلسل تین ماہ گزرنے کے باوجود معاوضہ جاری نہیں کیا گیا، جس سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
انٹرنز کے مطابق کرایہ، سفری اخراجات اور گھریلو ضروریات پوری کرنا دشوار ہو چکا ہے جبکہ متعدد اساتذہ قرض لینے پر مجبور ہیں۔
ذرائع کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سطح پر ادائیگیوں میں تاخیر انتظامی و مالی امور کی وجہ سے ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔
متاثرہ اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بقایاجات ادا کیے جائیں اور آئندہ کے لیے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ٹیچرز انٹرنز نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کریں گے۔
انہوں نے حکومتِ پنجاب اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر اساتذہ کو درپیش مالی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔




















