اے ای اوز کو مانیٹرنگ کے مکمل اختیارات سونپنے کا فیصلہ

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری سکولوں کی کارکردگی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو مینٹورنگ کی بجائے باقاعدہ مانیٹرنگ کے فرائض سونپنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈویژنل ڈائریکٹر نے اے ای اوز کو تفصیلی ہدایات جاری کر دی ہیں اور منگل سے باقاعدہ مانیٹرنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہر تحصیل سے ایک اے ای او کو خصوصی مانیٹرنگ ٹیم کا رکن مقرر کیا گیا ہے جو سکولوں کی اضافی نگرانی کرے گا، ہر ماہ ہر تحصیل میں تقریباً 35 سکولوں کی اضافی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی، مانیٹرنگ پر مامور اے ای اوز سکول کھلنے کے وقت ہی سکول پہنچیں گے اور پہلے پانچ منٹ کے اندر حاضر اور غیر حاضر سٹاف کی تفصیل ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کو ارسال کریں گے اس کے ساتھ سکول کی مجموعی صفائی، بشمول عمارت کی چھتوں تک، کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ طلباء کی باقاعدہ ہیڈ کاؤنٹنگ بھی کی جائے گی سکولوں میں نان سیلری بجٹ اور فری ٹیکسٹ بکس فنڈ کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے گا۔
فنڈز کے استعمال، بلوں اور اخراجات کی فزیکل ویری فکیشن کی جائے گی جبکہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی رسیدیں بھی چیک کی جائیں گی۔
سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بینک اسٹیٹمنٹس اور تمام متعلقہ رجسٹرز اپ ٹو ڈیٹ رکھے جائیں، بصورت دیگر رپورٹ میں متعلقہ سکول کو صفر ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
سکول کونسل کے ارکان کا مکمل ڈیٹا بھی چیک کیا جائے گا اور والدین کے نمائندہ ممبران کے بچوں کا سکول میں زیر تعلیم ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح واش رومز کی صفائی، مختلف رنگوں کی ڈسٹ بنز کی دستیابی اور سکول کے مجموعی ماحول کو بھی مانیٹرنگ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اساتذہ کی حاضری کے حوالے سے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ایک ماہ میں کسی بھی استاد کو دو سے زیادہ چھٹیوں کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ دیر سے آنے والے اساتذہ کو غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔
اسی طرح سکول ٹائم ختم ہونے سے چند منٹ قبل سکول چھوڑنے والے اساتذہ کو بھی غیر حاضر شمار کیا جائے گا۔کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے طلبہ کو روزانہ ہوم ورک دینے اور اس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کو بھی مانیٹرنگ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہوم ورک کی کاپیاں چیک شدہ حالت میں موجود ہوں۔
مزید برآں سکولوں میں سکیورٹی کے انتظامات بھی چیک کیے جائیں گے جن میں سکیورٹی گارڈ یا چوکیدار کی موجودگی، وزیٹر رجسٹر، میٹل ڈیٹیکٹر کی فنکشنل حالت، خاردار تار یا حفاظتی باڑ، سی سی ٹی وی کیمروں کی کارکردگی اور سکول کے داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی شامل ہے۔
اسی طرح سکولوں میں پنکھوں، بجلی کے ہولڈرز، لائٹنگ، فرنیچر اور طلبہ کے لیے صاف پینے کے پانی کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام کلاس رومز میں ٹائم ٹیبل آویزاں ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ سکول کے تمام رجسٹرز مکمل، درست اور کور شدہ حالت میں موجود ہونے چاہئیں۔
ڈویژنل ڈائریکٹر نے اجلاس میں واضح کیا کہ متعلقہ ڈپٹی ڈی ای اوز اور ڈی ای اوز بھی باقاعدگی سے سکولوں کے دورے کریں گے اور اے ای اوز کی رپورٹ کی روشنی میں ڈویژنل ڈائریکٹر کو کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود بھی اچانک سکولوں کے دورے کریں گے اور اگر پہلے سے ارسال کی گئی رپورٹس اور زمینی صورتحال میں فرق پایا گیا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ وزٹ کرنے والے افسر پر عائد ہو گی۔
اجلاس میں اساتذہ کے لیے تادیبی کارروائی کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا جس کے مطابق کسی بھی استاد کو پہلی دو مرتبہ وارننگ لیٹر جاری کیا جائے گا جبکہ تیسری مرتبہ خلاف ورزی کی صورت میں براہ راست سروس سے برطرفی کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
حکام نے سکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ تمام سٹاف کو فوری طور پر ان ہدایات سے آگاہ کر دیا جائے اور سکول میں موجود تمام ضروری ریکارڈ اور سہولیات کو مکمل اور درست حالت میں رکھا جائے تاکہ مانیٹرنگ کے دوران کسی قسم کی کوتاہی سامنے نہ آئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ منگل سے مانیٹرنگ کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔




















