ملتان سمیت پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں طلباء کے ہیلتھ پروفائل تیار کرنے کا عمل تیزی سے جاری

محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کی صحت کی بروقت تشخیص، خصوصی ضروریات کی نشاندہی اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
اب تک مرتب ہونے والے ڈیٹا کے مطابق مجموعی طور پر 2 لاکھ 58 ہزار طلباء کو صحت کے مسائل کم نوعیت کے درپیش ہیں، جبکہ 37 ہزار طلباء کو درمیانے درجے اور تقریباً ساڑھے 8 ہزار طلباء کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔
بصارت کے حوالے سے 32 ہزار 500 طلباء میں معمولی کمی، 2 ہزار 560 میں زیادہ اور 2 ہزار 349 طلباء میں شدید بینائی کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسی طرح سماعت کے مسائل کے حوالے سے 21 ہزار طلباء کو معمولی، 21 طلباء کو زیادہ اور 1 ہزار 341 طلباء کو شدید نوعیت کی دشواری لاحق ہے۔ چلنے پھرنے یا سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری کے حوالے سے 16 ہزار طلباء کو معمولی، 2 ہزار 61 کو زیادہ اور 1 ہزار 232 طلباء کو شدید مسائل درپیش پائے گئے ہیں۔
محکمہ تعلیم نے خصوصی طلباء کے لیے بہتر سہولیات اور جامع تعلیمی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ بچوں کی غذائی بہتری کے لیے سکولوں میں مفت دودھ اور بسکٹ کی فراہمی بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق ہیلتھ پروفائل کی تکمیل کے بعد ہر طالب علم کے لیے انفرادی نگہداشت، ریفرل سسٹم اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جس سے نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ تعلیمی معیار میں بھی واضح بہتری متوقع ہے۔




















