Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے منتظر ہزاروں اساتذہ کی سنی گئی

صوبہ پنجاب میں ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے منتظر ہزاروں اساتذہ کے لیے اہم پیش رفت ،محکمہ اسکول ایجوکیشن نے اعلان کیا ہے کہ منتخب اساتذہ کے تبادلوں کے آرڈرز 18 مارچ کو جاری کر دیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد صوبہ بھر میں منتظر اساتذہ میں امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تقریباً تین ماہ قبل ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں، تاہم طویل انتظار کے باوجود آرڈرز جاری نہ ہونے پر اساتذہ میں بے چینی اور تشویش پائی جا رہی تھی۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ کئی ہفتوں سے تبادلوں کے اعلان کے منتظر ہیں جبکہ مختلف ذاتی اور گھریلو مسائل کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمانہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر سے 56 ہزار سے زائد اساتذہ نے ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔ ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد میرٹ کے مطابق تقریباً 8 ہزار اساتذہ کو تبادلوں کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ درخواستوں کی بڑی تعداد کے باعث سکروٹنی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا گیا تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق تقریباً بیس روز قبل تبادلوں کے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھیں جنہیں درخواستوں کی جانچ، سکولوں کی خالی آسامیوں اور ہارڈ شپ کیسز کا تفصیلی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تاہم انتظامی اور تکنیکی مراحل مکمل ہونے میں وقت لگنے کے باعث تبادلوں کے آرڈرز میں تاخیر ہو گئی۔

دوسری جانب اساتذہ تنظیموں اور متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے تبادلوں کے منتظر ہیں۔ کئی اساتذہ دور دراز علاقوں میں تعینات ہونے کے باعث اپنے خاندانوں سے دور ہیں جبکہ بعض کو صحت اور گھریلو مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اساتذہ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم نے اساتذہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تبادلوں کے تمام معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور 18 مارچ کو ہارڈ شپ تبادلوں کے آرڈرز باقاعدہ جاری کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اساتذہ کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام فیصلے مکمل شفافیت اور میرٹ کے مطابق کیے جائیں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ پر تبادلوں کے آرڈرز جاری ہو گئے تو ہزاروں اساتذہ کو بڑی سہولت میسر آئے گی اور وہ اپنے گھریلو و پیشہ ورانہ مسائل سے کسی حد تک نجات حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کو اساتذہ کی فلاح اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button