Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایجوکیشن کا اجلاس

سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایجوکیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محمد توقیر رانجھا پریزیڈنٹ ایٹا نے انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹس کی نمائندگی کی،سینٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بی ٹیک / بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی(17 سالہ تعلیم) اور بیچلر آف سائنس ان انجینئرنگ (16 سالہ تعلیم) کی ایکیویلنس بحال کرنے پر سراہا اور تعریف کی۔

انہوں نے سینٹر عرفان الحق صدیقی چئیرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایجوکیشن نے وجیہہ قمر پارلیمانی سیکرٹری برائے ایجوکیشن، ڈاکٹر شائستہ سہیل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن، انجینئر امتیاز گیلانی چئیرمین نیشنل ٹیکنالوجی کونسل، سینیٹر مشتاق احمد خان موور و ممبر کمیٹی، سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی ممبر کمیٹی اور باقی تمام ممبران کمیٹی کی اجتماعی کاوش کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایکویلنس بحال ہونے سے پاکستان میں انجینرنگ ٹیکنالوجی تعلیم اور انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کے میدان میں ترقی کے راستے ہموار ہوں گے،سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ آنے والا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہمیں اس کے راستہ کو رکاوٹوں سے پاک کرنا ہوگا، انہوں نے ایچ ای سی کو ہدایات جاری کیں کہ کسی پریشر گروپ کے دباؤ میں آئے بغیر قانون و ضوابط کے مطابق اور ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرنگ ٹیکنالوجی گریجویٹس کے ایکویلنس سرٹیفیکیٹ کا اجراء بغیر کسی تاخیر کے یقینی بنایا جائے۔
سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری نے نیشنل ٹیکنالوجی کونسل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ، جس پر ناصر شاہ، مینجنگ ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کونسل کی قانونی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے ہاؤس کو بتایا کہ نیشنل ٹیکنالوجی کونسل ایچ ای سی کے زیر انتظام پانچویں کونسل کے طور پر کام کر رہی ہے اس سے پہلے 4 کونسلز کام کر رہی ہیں اور یہ تمام کونسلز مکمل طور پر ایچ ای سی کے قواعد و ضوابت کے تحت قائم کی گئی ہیں۔
کمیٹی نے ایجوکیشن منسٹری کو نیشنل ٹیکنالوجی کونسل ایکٹ اور انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹس کا سروس سٹرکچر حتمی شکل میں مکمل کرنے کیلیے 14 دن کا وقت دیا ہے اور اس کے بعد کابینہ سے منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button