Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی ملتان : طلباء اور آؤٹ سائیڈرز کا سیکورٹی چوکی پر حملہ؛ زیر حراست ملزم چھڑا لیا، سیکورٹی اہلکاروں پر تشدد

زکریا یونیورسٹی میں طلباء نے آوٹ سائیڈرز کے ساتھ ملکر سیکورٹی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا اور زیر حراست آوٹ سائیڈر کو چھڑا کرفرار ہوگئے۔

اس سلسلے میں سیکورٹی گارڈ محمد جاوید اقبال نے درخواست دی کہ میری ڈیوٹی بطور شفٹ انچارج (بی) تھی تو بذریعہ ٹیلفون مجھے طلاع ملی کہ شعبہ ایگر انومی پر طلباء کی لڑائی ہو رہی ہے، جس پرسکیورٹی سٹاف کے ساتھ ملکر موقع پر پہنچ گیا۔ سکیورٹی سٹاف نے اپنی جان کی بازی لگا کر طلباء کی لڑائی میں گھس کر چھڑایا اور ایک طالبعلم کو پکڑ کر سکیورٹی کنٹرول روم پر لے آئے۔

بعد ازاں راشد علی طالب علم ایگری بزنس، وسیم عباس ، اور محمد محیط طالب علم ایگرانومی، یاسر طالبعلم پیتھالوجی، احسن طالبعلم ایگریکلچر، محمد عدنان ولد محمد رئیس قوم چھٹہ سکنہ شاہ رکن عالم ( آؤٹ سائیڈر ) معہ اپنی راڈ، احمد رضا ولد محمد صدیق قوم راجپوت سکنہ گلشن فیض کالونی ( آؤٹ سائیڈر ) معہ ڈنڈا محسن ولد غلام مصطفیٰ قوم سیال سکنہ رشید آباد معہ ڈنڈا (آؤٹ سائیڈر) محمد نوید ولد غلام عباس قوم رانا سکنہ رحیم یار خان ( آؤٹ سائیڈر ) معہ آہنی راڈ حمزہ ( آؤٹ سائیڈر ) نے اپنے 10/15 نا معلوم ساتھیوں کے ساتھ سکیورٹی کنٹرول روم پر دھاوا بول دیا۔

ہیڈ محر محمد سلیم ولد محمد شریف سکیورٹی گارڈ کو گالیاں دینی شروع کر دیں، کنٹرول روم پر موجود محمد عامر سکیورٹی گارڈ اور حسن عباس سکیورٹی گارڈ نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، اسی اثناء میں میں سکیورٹی کنٹرول روم پر پہنچا تو محسن ولد غلام مصطفیٰ نے میرا گریبان پکڑ کر مجھے ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا، جس کے بعد اس کے ساتھیوں نے بھی مجھ پر تشدد کر دیا۔ جس سے میرے دانت پر شدید چوٹ آئی، میری سرکاری یونیفارم پھٹ گئی، طلباء نے ڈنڈے مار کر سر کاری میز کا شیشہ توڑ دیا اور میرا موبائل فون بھی توڑ دیا۔

ان طلبا نے یونیورسٹی کے پر امن ماحول کو سبوتاژ کیا یونیورسٹی میں طلبہ میں خوف و ہراس پھیلایا ۔ سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی ۔ ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی سٹاف کے ساتھ مار پیٹ کی ۔ کار سرکار کی انجام دہی میں مداخلت کی ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

سیکورٹی ونگ کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور موقع پر موجود شواہد کی مدد سے ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے مقامی پولیس کو بھی واقعہ سے آگاہ کر دیا ہے اور درخواست میں نامزد تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button