"صوفی ورثے کی تلاش : وسط ایشیائی تناظر” سیمینار کا انعقاد

زکریا یونیورسٹی ملتان کے ادارہ علومِ اسلامیہ، مرکز تحقیقاتِ اسلامی اور ادارہ تصوف و عرفانیات کے زیرِ اہتمام ایک اہم علمی نشست بعنوان (صوفی ورثے کی تلاش: وسط ایشیائی تناظر) منعقد ہوئی۔
ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر ڈاکٹر عبد القدوس صہیب نے تصوف کی فکری و تہذیبی اہمیت اور عصرِ حاضر میں اس کے تحقیقی مطالعے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ وسط ایشیا کی صوفی روایت اسلامی تہذیب کا ایک درخشاں باب ہے جس کے اثرات وسیع تر مسلم دنیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔
ممتاز سکالر پروفیسر ڈاکٹر شمس الرحمٰن نے علمی روابط اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقی کاوشیں اسلامی مطالعات کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔
ادارہ علومِ اسلامیہ کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر منزہ حیات نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں طلبہ و اساتذہ کو عالمی سطح کے محققین سے استفادہ کا موقع فراہم کرتی ہیں اور تحقیق کے نئے زاویے متعارف کراتی ہیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر معروف فرانسیسی محقق Alexander Papas تھےجو پیرس میں ڈائریکٹر آف ریسرچ کے منصب پر فائز ہیں۔
انہوں نے اپنے مفصل لیکچر میں وسط ایشیا کی صوفی روایت کے تاریخی ارتقاء، فکری بنیادوں اور معاصر معنویت پر سیر حاصل گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وسط ایشیائی صوفی روایت نے اسلامی فکر اور تہذیب کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس کے اثرات آج بھی علمی و روحانی حلقوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے۔
تقریب کے آخر میں مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا گیا اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کی بین الاقوامی علمی سرگرمیوں کے تسلسل کے عزم کا اظہار کیا گیا۔



















