سیلاب متاثر علاقوں میں ٹینٹس میں سکول قائم کرنے کا فیصلہ

ملتان میں سیلاب سے متاثر علاقوں ںتدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا اور بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں ایسے سکول جہاں ابھی سیلابی پانی کھڑا ہے یا ان کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے ان کی جگہ کلاسز ٹینٹس میں لگائی جائیں گی تاکہ بچوں کا تعلیمی ہرج نہ ہوسکے۔
اس سلسلے میں سی ای او ایجوکیشن ملتان ڈاکٹر صفدر حسین واہگہ کا کہنا ہے کہ ہمارے 153 سکول سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ملتان سٹی اور صدر میں 8سکولوں میں ریلیف کیمپ لگائے تھے جو اب خالی ہوچکے ہیں ان میں کلاسز شروع کی جائیں گی جبکہ سیلابی علاقوں کے سکولوں کو پہلے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے چیک کرایا جائے گا جبکہ تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیر والا میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے کچھ ایسے سکول ہیں جن کے اندر پانی داخل ہو گیا ہے کچھ ایسے ہیں جن تک پہنچنے کا راستہ نہیں ہے ان کی بحالی میں مشکلات کا سامنا ہے کہ کیسے عملے وہاں جاکر عمات کو چیک کرسکے تو ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں جہاں ایکسس ہورہی ہے ان سکولوں کو بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے ویریفائی کروانے کے بعد وہاں پہ اپنی اکیڈمک ایکٹیوٹی شروع کریں اور جہاں پہ ابھی ممکن نہیں ہے کہ ابادی بھی وہاں پہ کم ہے اور سکول بھی ابھی فنکشنل نہیں ہو سکتے تو وہاں ہم کوشش کریں گے کوئی محفوظ جگہ ڈھونڈ کے وہاں پر کوئی ٹینٹ ہاشوانی آنے میں سکول قائم کردیں تاکہ وہاں پہ جتنی ابادی ہو وہاں پہ جو بچے ہیں ان کو تدریس کا عمل مکمل کرایا جائے ، سیلابی علاقوں میں تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کےلئے پورا ڈیپارٹمنٹ متحرک ہے حکومت کی کوشش ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوجائیں اس کے لیے ا ایڈیشنل سیکرٹری نے بھی اسی پہ میٹنگ لی جس میں فیصلہ کیاگیا کہ ٹینٹس میں کلاسز کا اجرا کردیا جائے تاکے طلبا کا نقصان نہ ہوسکے۔




















