ٹیوٹا سٹاف یونین پر پابندی لگادی گئی

چیئرمین ٹیوٹا نے منفی سرگرمیوں میں ملوث ٹیوٹا سٹاف یونین پر پابندی لگادی،ملوث افراد کے خلاف کاررائی کی ہدایت کردی۔
تفصیل کے مطابق پنجاب کے فنی تعلیم اداروں میں گزشتہ چار ماہ سے ملازمین نے ہڑتال کررکھی ہے، جس کی وجہ سے طلباء کا تدریسی نقصان ہورہا ہے، احتجاج کرنےوالے ملازمین ادارے میں آنے والے دیگراساتذہ سے بدسلوکی کرتے اور طلباء کوبھی احتجاج پر اکساتے تھے،جبکہ اداروں کے سربراٹ ان کی حاضری میں سٹرائیک پر ہیں لکھ کر حاضری لگاتے رہے ۔
جس کی شکایت چیئر پرسن ٹیوٹا کو کی گئی تو انہوں نے فریقین کو اگست میں نوٹس جاری کئے ، مگر سٹاف یونین کے صدر مختار اعوان نے نوٹس کاجواب نہیں دیا۔
جس پر چیئرپرسن نے نے پابندی کامراسلہ جاری کرتے ہوئے کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ غیر قانونی طورپر تشکیل دی گئی ، ٹیوٹا سٹاف یونین اداروں میں امن وامان کی صورتحال پیدارکررہی ہے۔
ٹیوٹا کے آئین کے مطابق یونین تشکیل نہیں دی جاسکتی، آئین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لئے خلاف آئین تمام سرگرمیاں روک دی جائیں ، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے تناظر میں ٹیوٹا تعلیمی ادارہ اس پر لیبرقوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، اس کےلئے ٹیوٹا سٹاف یونین پر مکمل پابندی لگائی جاتی ہے۔
اعلیٰ حکام کوہدایت کیجاتی ہے کہ ایسے تمام ٹیوٹا ملازمین خلاف انکوائری کی جائے، اور سزا دی جائے جو غیرقانونی یونین کاحصہ ہیں یا ان کی ایماء پر سرگرمیوں میں حصہ لیتےرہے ہیں اور اس کی مکمل رپورٹ ارسال کی جائے۔




















