Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زرعی یونیورسٹی میں دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

ملتان ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں پودوں کی غذائی مینجمنٹ اور اعلی کارکردگی کے حامل آبپاشی کے نظام پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ اور گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

جس کی صدارت رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کی۔

انٹرنیشنل ٹرینر سابق اردن یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر منیر جمیل الروسان تھے۔
اس وقت پاکستان میں اینگرو فرٹیلائزر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے شرکاء کو دور جدید کی آبپاشی کھادوں سے متعلق ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور کسانوں کی دہلیز تک پہنچانے پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ورکشاپس کا انعقاد کسانوں کے لیے بہت ضروری ہے۔پروفیسر منیر جمیل الروسان نے پاکستانی زمینوں کے لیے پوٹاش کے استعمال کی افادیت کو اجاگر کیا، اور اپنے تجربہ کی روشنی میں پوٹاش کے متوازن استعمال کے لئے مختلف فصلوں کی پوٹاش کی طلب و رسد کے متعلق بتایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں کھادوں کا استعمال انتہائی غیر متوازن ہے اور اسی کے روایتی طور طریقوں کی وجہ سے یہ مسئلہ دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔

پوٹاش کھاد نا صرف دوسری کھادوں کی افادیت بڑھا دیتی ہے، بلکہ فصلوں کی پیداوار کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

اینگرو فرٹیلائزر کمپنی کے ڈاکٹر آصف نے اینگرو فرٹیلائزر کے متعلق پروگرامز اور اعلی اقدامات کے متعلق بتایا۔

ڈاکٹر تنویر الحق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف سوائل اینڈ انوائرمینٹل سائنسز زرعی یونیورسٹی ملتان نے اعلی کارکردگی کے حامل ڈرپ اریگیشن سسٹم اور ہیڈرو پونک سسٹم جیسی جدت پسند ٹیکنالوجی سے متعلق ڈیپارٹمنٹ کے زیر نگرانی منعقدہ تجربات کے بارے میں بتایا۔

پہلے دن تمام شرکاء کو ڈرپ ایریگیشن سسٹم اور ہائیڈرو پونک یونٹ سسٹم جیسی ٹیکنالوجی کی عملی ٹریننگ دی گئی، اور اس سے متعلق موضوعات و مسائل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

ٹریننگ کے دوسرے روز پوٹاش کھادون کے روایتی و غیر روایتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

جس میں ایڈیشنل سیکرٹری ایگریکلچر ٹاسک فورس ساؤتھ پنجاب امتیاز وڑائچ ڈی جی واٹر ساؤتھ پنجاب ظفراللہ سندھو کے علاوہ محکمہ زراعت و آبپاشی کے اعلی افسران ماہرین زرعی انجینئرنگ جدت پسند کسان انڈسٹری نمائندگان کی ٹیم ممبران اور اینگرو فرٹیلائزر ریسرچ ڈیولپمنٹ سیلز کے ماہرین نے گول میز کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس گول میز کانفرنس میں گزشتہ روز کی عملی تربیت سے متعلق مختلف سوالات و جوابات زیربحث آئے کھادوں کے روایتی اور غیر روایتی استعمالات اور ذرائع کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

گول میز کانفرنس کے اختتام پر مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے گئے۔80 فیصد کسان پوٹاش کھادوں کے استعمال کے فوائد و ثمرات سے بے خبر ہیں۔

دوسری کھادوں کی طرح پوٹاش کھادوں کے لئے بھی بھرپور آگاہی مہم چلانی چاہیے۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید ڈاکٹر وزیر احمد ڈاکٹر باقر حسین ڈاکٹر شکیل احمد ڈاکٹر محمد عمران ڈاکٹر عثمان جمشید ڈاکٹر محسن خاں سمیت ماہرین زراعت انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button