زرعی یونیورسٹی ملتان : ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا.
جس کی صدارت رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی(تمغہ امتیاز) نے کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔
پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت اور پانی کا آپس میں براہ راست تعلق ہے۔جس کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر بنانا ملک کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔
مزید شرکاء کو بتایا کہ زرعی جامعہ ملتان نے جلال پور پیر والا میں 500 ایکڑ زرعی زمین میں موجود نمکیاتی پانی کوٹریٹ کر کے غیر آباد زمین کو قابل کاشت بنایا۔
کامسٹ یونیورسٹی کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عدنان نے پاکستان میں پانی کی موجودہ صورتحال کے بارے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 فیصد تازہ پانی گلیشیرکے پگھلنے کے باعث ملتا ہے ، جو ملک میں آب پاشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور انہوں نے اور ان کے بننے کے مراحل کا بھی بتایا۔
خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے شرکاء کو جیو گرافک انفارمیشن سسٹم اور ریموٹ کے بنیادی استعمال بار ے آگاہ کیا۔
شرکاء کو گلیشئیر سے بننے والے پانی کے راستوں اور ان کے ذخائر کی سیٹلائٹ کے ذریعے نشاندہی کرکے بتایا۔
ورکشاپ کے اختتام پر چیئرمین زرعی انجینئرنگ ڈاکٹر سرفراز ہاشم نے تمام شرکاء اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی کے بہتر اور کم استعمال سے بڑھتی آبادی کی پانی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
ٹریننگ کے بعد پانی کی اہمیت بارے آگاہی واک کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں طلباء نے کثیر تعداد میں مختلف پوسٹرز اور بینرز کے ساتھ شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر سیف اللہ، ڈاکٹرمحسن نواز، انجینئر کاشف، عبدالعلیم سمیت طلباء طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔


















