افغانستان میں پاکستان کاکوئی فیورٹ نہیں: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ
افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، افغانستان کے مستقبل کافیصلہ افغانوں نے کرناہے افغان جوبھی فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہوگا،افغان قیادت کوبڑے پن کامظاہرہ کرناچاہیے اورمل بیٹھ کریہ مسئلہ حل کرناچاہیے۔ افغان مسئلہ کا حل عسکریت نہیں صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔
اس وقت کوئی افغان مہاجر پاکستان نہیں آرہا بلکہ افغان عوام امن چاہتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے گھرو ں میں محفوظ رہیں۔
بھارت اس مسئلہ کو الجھانے کی بجائے سلجھانے کی کوشش کرے، کیونکہ یہ خیر سگالی کا وقت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہو ں نے رضا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا پاکستان پہلے دن سے ہی افغانستان میں امن کیلئے کوشاں ہے اور وزیراعظم کے اس ویژن کو پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے۔
افغانستان کی موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر میں عاشورہ محرم کے بعد چین ، ایران، تاجکستان سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے رابطہ کرونگا، اور کسی بھی وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ متوقع ہے۔
انہو ں نے کہا پوری دنیا اور پاکستان افغان مسئلہ پر ایک پیج پر ہیں۔ اور سب یہی چاہتے ہیں افغانستان میں امن ہو ۔ ہماری پہلے دن سے خواہش رہی ہے کہ افغان مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اس کے لئے پاکستان نے بھر پور کوششیں کیں۔
وزیر خارجہ نے کہا پوری دنیا کو افغان مسئلہ کی سنجیدگی کا احساس ہے ۔ اور پاکستان اس مسئلہ پر پہلے دن سے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان بارڈر پر ریگولیٹری سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی انسٹال کردی ہے۔
انہو ں نے کہا افغان مسئلہ پر ڈس انفارمیشن اور بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈہ پر توجہ نہ دی جائے ل، کیونکہ اس سے صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کیونکہ لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے اسی لئے اس پر محتاط طریقے سے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے امن کیلئے ہمیشہ مثالی کردار ادا کیا۔
پاکستان نے ہزاروں افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دی، اور ہمیں اب بھی توقع ہے کہ افغانستان میں نہ صرف امن قائم ہوگا، بلکہ وہاں کے عوام اپنے گھرو ںمیں خوشحال زندگی بسر کرسکیں گے۔
یہ افغانستان کے مستقبل اور افغان قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں ۔ افغانستان کے عوام چاہتے ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح نقل مکانی نہ کرنی پڑے ۔ ان کے بچے انہیں کے تعلیمی اداروں ںمیں تعلیم حاصل کریں۔ ان کے بازار کھلے ہوں اور انہیں ان کے حقوق ملیں۔
پاکستان نے اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے دوحہ ، ٹرائیکا پلس، استنبول سمیت تمام فورمز پر پاکستان نے بھرپور حصہ ڈالا۔
افغانستان کے ہمسائیہ ممالک میں عاشورہ کے بعد دورے شروع کروں گا۔
افغان قیادت کا ایک وفد جلد پاکستان کا دودہ کرے گا۔افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ تبدیلی آ رہی ہے۔ ہمیں ذمہ دارانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سفارتخانہ افغانستان میں کام کر رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں پھنسے تمام افراد کو نکالنے کے لئے مدد کی پیشکش کر چکا ہے۔ ایسا سیٹ اپ جس میں امن کا فروغ ہو اسکی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کا کام بین الاقوامی سوچ میں رہتے ہوئے امن کو قائم کروایا جائے۔دنیا کو افغان مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ ہے۔


















