Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی انتظامیہ کی طالبات کو پھر سنگین نتائج کی دھمکیاں

ویمن یونیورسٹی کی طالبات کا ہاسٹل کی فیس بارے احتجاج جرم بن گیا۔
گزشتہ روز طالبات نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی سے ملکر فیس معافی کی درخواست دینا چاہی تو ان کو روک دیا گیا، اور دھکے دے کر دفتر سے باپر دھوپ میں کھڑا کردیاگیا۔
ان کے نام رولنمبر اور ڈیپارٹمنٹ پوچھ کر ان کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں، اس موقع پر وارڈن ڈاکٹر ملکہ رانی نے طالبات سے موبائل چھین لئے اور سیکورٹی انچارج میجر کو دیے کہ ان کا ڈیٹا نکلوایا جائے کہ یہ کس کس سے رابطے میں ہیں ۔
انہوں نے طالبات کی کردار کشی کرتے ہوئے سنگین الزامات بھی عائد کئے اور کہا کہ وہ ان کا کیئرئر تباہ کردیں گی، جس کے بعد طالبات روتی ہوئی چلی گئیں۔
جس پر اسلامی جمعیت طلبا نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ہوش کے ناخن لے ، یہ افسوس ناک واقعہ ہے طالبات کی زبان بندی کی جارہی ہے، ناظم ملتان حافظ مجاہد صالحین نے کہا کہ یونیورسٹی کی انتظامی سیٹیوں پر ایک مخصوص ٹولہ قابض ہے جو حالات کو خراب کررہا ہے ۔
ہاسٹل وارڈن ڈاکٹر ملکہ رانی کے غیر اخلاقی رویے پران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، وائس چانسلر ا س معاملے کو قانون کے مطابق حل کریں ، اور طالبات کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
اگر طالبات کے خلاف یکطرف کارروائی کی گئی تو احتجاج ہمارا حق ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button