Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی سکالر پنکی شوکت کا کامیاب پبلک ڈیفنس

ترجمان کے مطابق شعبہ اکنامکس کی پی ایچ ڈی سکالر پنکی شوکت کا مجلسی دفاع یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر (کچہری کیمپس)، خواتین یونیورسٹی، ملتان میں منعقد ہوئی۔

ان کے ریسرچ مقالے کا عنوان "ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی ترقی اور آمدنی کی عدم مساوات پر انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا تجزیہ” تھا۔

ان کے تحقیقی مقالے کی سپر وائزر ڈاکٹر حنا علی اور ایکسٹرنل سپر وائزر ڈاکٹر ڈاکٹر رمضان شیخ تھے۔

مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تھیں سکالر ڈاکٹر پنکی شوکت کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کا پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ہے، آئی ٹی کے ذریعے آبی وسائل، کلائمیٹ پیٹرن اور زرعی ضروریات کے بارے میں درست اور رئیل ٹائم ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔

آج ٹیکنالوجی کے استعمال سے پانی کا مناسب استعمال یقینی بنایا جا رہا ہے، زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا بروقت استعمال ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کے لیے مجموعی پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر انہیں معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔

مصنوعی ذہانت کو صنعتی اور دوسرے شعبوں میں متعارف کرنے سے نہ صرف مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے روایتی طور پر جدید ترقی کے دور میں مغرب کا غلبہ رہا ہے ترقی پذیر اور غربت میں پھنسے ممالک کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی ایک مسئلہ رہی ہے لیکن اب انٹرنیٹ کی وجہ سے معلومات اور تحقیق تک رسائی ماضی کے مقابلے میں بہت آسان ہو گئی ہے ۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے ایسے ممالک جو ترقی کے دوڑ میں  پیچھے رہ گئے تھے ان کو آگے نکلنے کا موقع مل گیا ہے، سمارٹ فون سے رقوم کی ادائیگی اور نیٹ ورکنگ کی ایپلی کیشنز جیسے عام استعمال کے علاوہ تعلیم، زراعت، صحت اور ماحولیات سمیت کئی شعبوں میں تحقیق، ترسیل، اور مواصلات کے نظاموں میں بہتری سے کم آمدنی والے ملکوں کی معیشت میں انقلاب آسکتا ہے تاہم دنیا کو مشینوں کی تیزرفتار پیش رفت کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے کہ یہ ہمارے تمام مسائل کا حل ہوگا لیکن یہ تمام بیماریوں کا
علاج نہیں ہے۔ دنیا کو اس قسم کی ترقی کے اثرات کے لیے تیاری ابھی سے کرنا چاہیے۔

اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ اکنامکس ڈاکٹر حنا علی اور دیگر بھی موجود تھیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button