ویمن یونیورسٹی ملتان نے سیلاب زدگان کےلئے مہم شروع کردی، کیمپس میں ڈونیشن بکس اور امدای کیمپ قائم

ترجمان کا کہنا ہےکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف سامان اور فنڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس ‘فلڈ ڈرائیو’ کا نام دیا گیا ہے۔
وائس چانسلر نےسیلاب زدگان کی مدد کےلئے مختلف کمیٹیاں بھی بنادی ہیں، جس کے مطابق سیلاب زدگان کی ساری مہم کی سربراہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہوں گی جبکہ فوکل پرسن کے فرائض ڈاکٹر ثمینہ اختر سر انجام دیں گی جبکہ ایڈوائزر کی ٹیم میں ڈاکٹر میمونہ خان، ڈاکٹر ملکہ رانی، ڈاکٹر عذرا لیاقت کو شامل کیا گیا ہے۔
فلڈ ریلیف کوارڈینیٹرز میں ڈاکٹر فریحہ سہیل، ڈاکٹر اسماء اکبر، ڈاکٹر آسیہ بی بی، ڈاکٹرصائمہ نسرین کو شامل کیا گیا ہے جبکہ کیمپس ڈونیشن کمپین کی ذمہ داری ڈاکٹر خدیجہ کنول، ڈاکٹرملکہ لیاقت سونپی گئی ہے۔
کمیونیکیشن اور پبلسٹی کی ذمہ داری ڈاکٹر دیبا شاہ سوار، ڈاکٹر شاہدہ رسول، ڈاکٹر جویریہ احمد کو دی گئی ہے، سپورٹنگ ٹیم میں عقیل احمد، رضوان صدیقی اور جان شیر کو شامل کیا گیا ہے۔
میڈیا کوریج ٹیم کے چیف کو ارڈینیٹر مس انعم زہرہ قریشی ہوں گی جبکہ ان کا ساتھ فوٹوگرافر عدنان اور فرید چشتی دیں گے۔
فوڈ آئٹم کے ریکارڈ کے لیے بنائی گئی ٹیم میں ڈاکٹر رابعہ، ڈاکٹر عشرت، ڈاکٹر منزہ جاوید شامل ہیں، ایجوکیشنل کیمپ کے لیے ڈاکٹر فریحہ سہیل، ڈاکٹر رحمہ ، ڈاکٹر ڈاکٹر فاطمہ مس انس کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہے۔
فنانشل ریکارڈ کے لیے بنائے گئی ٹیم میں ربیعہ، مس سعدیہ تبسم شامل ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کے معاملات کو شفیق احمد دیکھیں گے۔
ہیلتھ کیمپ کے لیے ٹیم میں ڈاکٹر زرمینہ، ڈاکٹر ماہم امتیاز، ڈاکٹر ثنا جاوید، مریم محمود انصاری کو شامل کیا گیا ہے، اشیاء کی خریداری کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں ڈاکٹرمدیحہ اکرم، ڈاکٹر سارہ مصدق شامل ہیں جبکہ سکیورٹی کی دیکھ بھال کے لیے ذمہ داری عرفان حیدر چیف سکیورٹی آفیسر کو سونپی گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہےکہ کیمپس میں ڈونیشن بکس لگا دیا گیا ہے جس میں تمام ملازمین، افسر،اساتذہ اور طالبات اپنی مرضی سے امداد دے سکتے ہیں۔
دریں اثنا سیلاب زدگان کےلئے ہونے ولے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ مصیبت کے اس وقت میں اپنے پاکستانیوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ویمن یونیورسٹی متاثرین سیلاب کی بھرپور مدد کرے گیز ان کے لئے فنڈریزنگ مہم بھی چلائی جائے گی، ویمن یونیورسٹی متاثرین کی ذہنی صحت کی بحالی کیلئے کیمپس لگائے گی، جس میں سائیکالوجی کی ماہرین خدمات سرانجام دیں گی۔
اسی طرح سیلاب سے متاثر بچوں کےلئے ویمن یونیورسٹی سکول بھی قائم کرنے کافیصلہ کیاگیا جہاں یونیورسٹی کی اساتذہ بچوں کو تعلیم دیں گی، اس کے ساتھ متاثرین کو راشن تقسیم کیا جائے گا اور ان کے گھروں کو پہنچے والے نقصان کے ازالے کےلئے مالی امداد کی کوشش بھی کی جائے گی، جس کےلئے یونیورسٹی کی ٹیم متاثرہ علاقوں کا جلد دورہ کرے گی۔
رجسٹرار ملکہ رانی کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے، سیلابی ریلے درجنوں جانور بہا کر لے گئے، زمینوں پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، ایسے میں ہمیں اچھے پاکستانی اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے میدان میں آنا چاہیے، تمام افراد خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کا سامان عطیہ کریں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔




















