"انکلوسیو ڈیجیٹل اکنامک اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ میں مصنوعی ذہانت کا کردار” کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار

شعبۂ معاشیات، ویمن یونیورسٹی ملتان کے زیرِ اہتمام "انکلوسیو ڈیجیٹل اکنامک اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ میں مصنوعی ذہانت کے کردار” کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق سیمینار کا مقصد جامع ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت کے امکانات کو اجاگر کرنا تھا۔
تقریب میں نیٹ رائیڈر سافٹ ہاؤس کے سی ای او مسعود ہمایوں خان بابر نے بطور ریسورس پرسن خصوصی شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے معاشی ڈھانچے پر اثرات، ڈیجیٹل اختراعات، اسٹارٹ اپ کلچر، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار ترقی کے تناظر میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ آنے والے دور میں وہ معیشتیں کامیاب ہوں گی جو ڈیٹا، خودکار نظام اور سمارٹ ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کریں گی۔
مصنوعی ذہانت نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ صحت، تعلیم، بینکاری اور ای گورننس کے شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔
فوکل پرسن و چیئرپرسن شعبہء معاشیات کی پروفیسر ڈاکٹر حنا علی نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی ضرورت ہے، اور طالبات کو جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا جامعہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ دنیا تیزی سے چوتھے صنعتی انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت معیشتوں کی سمت متعین کر رہی ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنائیں اور انسانی وسائل کو جدید مہارتوں سے آراستہ کریں ، جامع اور پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ مصنوعی ذہانت کو تعلیم، تحقیق اور کاروباری سرگرمیوں میں بروئے کار لا کر نہ صرف معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے بلکہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ویمن یونیورسٹی ملتان طالبات کو ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے مزید ورکشاپس، سیمینارز اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد جاری رکھے گی۔
سیمینار میں شعبۂ معاشیات کے اساتذہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔




















