Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

سکولوں کے آپریشنل انتظامات چلانے کےلئے زکوٰۃ بینک قائم کرنے کا فیصلہ

پنجاب کے تعلیمی حکام نے نئے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے سرکاری اسکولوں میں تدریسی معیار، انتظامی نظم و نسق اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 34 اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

ان اقدامات کا مقصد اسکولوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا، طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کرنا اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

حکام کے مطابق سرکاری اسکولوں کو اپنے آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے عطیات جمع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں میں زکوٰۃ بینک بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ مستحق طلبہ کی مالی معاونت اور دیگر تعلیمی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اسکولوں میں عطیہ دہندگان کے نام نمایاں کرنے کے لیے ڈونر بورڈز بھی آویزاں کیے جائیں گے۔

اجلاس میں اسکولوں کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا، ہدایات کے مطابق اسکول کے اوقات میں گارڈ یا گیٹ کیپر ہر وقت مرکزی دروازے پر موجود ہوگا جبکہ میٹل ڈیٹیکٹر کو فعال رکھنا لازمی ہوگا، طلباء کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام سرکاری اسکولوں میں بک بینک قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مختلف کلاسوں کے طلبہ سے اضافی نصابی کتابیں جمع کر کے ایک نامزد استاد کے ذریعے مستحق طلبہ کو فراہم کی جائیں گی۔

تعلیمی حکام نے داخلہ مہم کو بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سرکاری اسکولوں کو طلبہ کے داخلوں میں کم از کم 7 فیصد اضافے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اساتذہ کو داخلہ اہداف دیے جائیں گے جبکہ اسکولوں کے باہر بینرز اور بروشرز آویزاں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقامی نمائندوں اور فیڈر اسکولوں کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سکول بیسڈ اسیسمنٹ سکول کے اوقات کے دوران جاری رہے گا امتحانات کے بعد مارکنگ سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں اساتذہ پرچے چیک کر کے نتائج باقاعدگی سے اپ لوڈ کریں گے۔

کلاس روم کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ہر کلاس روم باقاعدہ طور پر کسی ایک استاد کے سپرد کیا جائے گا اور کلاس روم کی سجاوٹ سے قبل اور بعد میں پیشکشیں تیار کی جائیں گی تاکہ تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تعلیمی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری خط و کتابت پر فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی زیر التوا مراسلے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔نئے فیصلوں کے تحت اسکول کے اوقات میں اساتذہ کے موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اساتذہ کو اپنے موبائل فون اسکول دفتر میں جمع کروانے ہوں گے جبکہ صرف ہیڈ ٹیچر اور جونیئر کلرک کو ڈیوٹی کے دوران موبائل رکھنے کی اجازت ہوگی۔

اس کے علاوہ اسکول کے احاطے کو درجہ چہارم کے عملے میں تقسیم کر کے صفائی اور دیکھ بھال کی ذمہ داریاں مقرر کی جائیں گی۔ طلبہ کے لیے مکمل اور مناسب یونیفارم لازمی قرار دی گئی ہے اور بغیر یونیفارم طلبہ کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکام نے ہدایت کی کہ کلاس رومز میں چارٹس، ٹائم ٹیبل، تھیمز، کلاس موٹو اور تعلیمی نعرے نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں تاکہ ایک مثبت تعلیمی ماحول قائم رکھا جا سکے۔مزید برآں، ہر اسکول کو ادارہ جاتی اہداف مقرر کر کے انہیں اسکول دفتر میں نمایاں طور پر ظاہر کرنا ہوگا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سے اہداف مکمل ہو چکے ہیں اور کن پر کام جاری ہے۔

تعلیمی حکام نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ منظور شدہ چھٹی کے بغیر اسٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کسی بھی غیر حاضری کی اطلاع فوری طور پر کلسٹر ہیڈ کو دی جائے گی اور ریکارڈ میں درج کی جائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button