ملتان : مینگو فیسٹول جاری ، دوسرے روز بھی شہریوں کا جم غفیر

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی،ڈی ایچ اے، مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے اشتراک سے مینگو فیسٹیول کے دوسرے دن بھی آموں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔
بچوں کے لئے مختلف طرح کی دلچسپ سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا۔
بچوں کے لئے ورائٹی شو،مینگو واک،گانے کے مقابلے اور فیشن شو کا بھی انعقاد کیا گیا۔
50سے زائد فیملیز نے ان مقابلہ جات میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں۔
تین روزہ مینگو فیسٹول شروع ہوگیا
مینگو فیسٹیول کے دوسرے روز موسمی تبدیلیوں کے أم کی فصل پر اثرات پر کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی تمغہ امتیاز نے مینگو گروورز اور کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال آم کی فصل پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت برے اثرات پڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ أم کی فصل پر جدید تحقیق کرکے زیادہ درجہ حرارت پر اچھی پیداوار دینے والی اقسام حاصل کی جا سکتی ہیں۔
مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یونیورسٹی اور ریسرچ اداروں کے اشتراک کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
مینگو گروور مس رابعہ سلطان نے آم کے باغات میں ملچنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا ، اور اس سے پانی کے استعمال میں کمی پر روشنی ڈالی۔انہوں نے یونیورسٹی کے ہر سال مینگو فیسٹیول کے انعقاد کو سراہا۔
ایڈیشنل سیکریٹری ٹاسک فورس ساؤتھ پنجاب امتیاز وڑائچ نے یونیورسٹی اور سرکاری اداروں کے اشتراک کو سراہا۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے أم پر اثرات اور اس سے ہونے والے نقصان کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ درجہ حرارت کے ایک ڈگری اضافے سے گرمی کے دنوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس تناظر میں جدید تحقیق اور کسانوں کی رہنمائی سے آم کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔
مینگو گرور زاہد حسین گردیزی نے کہا کہ أم کی فصل میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔اس سلسلے میں کسانوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
مینگو فیسٹیول کے انعقاد کے ذریعے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان عام کسان اور گروز کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
جس سے ملکی معیشت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔مینگو گرور میجر طارق نے یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آم کی ایکسپورٹ بڑھا کر ملکی زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے ۔یہ مینگو فیسٹیول ایک روز مزید جاری رہے گا ۔
اس موقع پر شہریوں نے یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا اور فیملیز نے اس کو ایک تفریحی فیسٹیول قرار دیا ،جس سے خوب لطف اندوز ہوئے ۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رضا،پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی، پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق خان،ڈاکٹر تنویر احمد،ڈاکٹر سلمان قادری،ڈاکٹر کاشف رزاق،ڈاکٹر عابد حسین سمیت دیگر فیکیلٹی مینگو گروورز اور کسانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔


















