مال مفت دل بے رحم ،،،،،،،،، ملازم تو ملازم افسر بھی چور نکلے

جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی زکریا یونیورسٹی میں چوروں کا راج ہے، رہائشی کالونی میں رہنے والے ملازمین سر عام لٹ رہے ہیں تو کہیں اہم سیٹوں پر بیٹھے افسر سرکاری مال لوٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ۔
مسلح افراد زکریا یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈز کو قید کرکے ٹرانسفارمر چوری کرکے لے گئے
ایسی ہی کہانی زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سٹیٹ سے سامنے آئی ہے کہ کریا یونیورسٹی کے ایڈیشنل رجسٹرار سٹیٹ کامران تصدق پیٹرول چوری میں ملوث ہیں۔
ماضی میں ان پر لکڑی چوری کے الزامات سامنے آئے تھے، جو اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے دبا دئے تھے، اور اس وقت کے سیکورٹی آفیسرز کو لکڑی چوری پکڑنے پر سرزنش بھی کی تھی، اب پیڑول کی چوری سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
مسلح افراد زکریا یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈز کو قید کرکے ٹرانسفارمر چوری کرکے لے گئے
شعبہ سٹیٹ کے کام کاج کے لئے تین موٹر سائیکل دئے ہیں، جن کو ماہانہ پیٹرول بھی دیا جاتاہے یہ موٹر سائیکل دفتری کام کے بجائے ایڈینشل رجسٹرار کے گھر کھڑے رہتے تھے، جس پر ٹرانسپورٹ حکام نے موٹر سائیکلوں کو یونیورسٹی میں رکھنے کو لازم قرار دے دیا، جس کے بعد دن میں ایک بار سارے موٹر سائیکل ایڈیشنل رجسٹرار سٹیٹ کے گھر جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان موٹر سائیکلوں کو دئے جانے والا پیٹرول پہلے ایڈیشنل رجسٹرار براہ راست اپنے گاڑی میں ڈلواتے رہے ، جب روکا گیا تو انہوں نے ٹرانسپورٹ آفیسر سے جھگڑا بھی کیا تھا، لیکن پھر ان کی بات مان لی مگر پیٹرول موٹر سائیکلوں میں ڈلوا کر گاڑی میں استعمال کرتے ہیں، جس کے لئے اب یہ موٹر سائیکل دن میں ایک مرتبہ گھر جاکر پیٹرول گاڑی میں ڈال آتے ہیں۔
اس طرح سرکاری کام کےلئے دیا گیا پیٹرول ٹیکنیکل چوری کے ذریعے ایڈیشنل رجسٹرار کی ذاتی گاڑی میں استعمال کیا جارہا ہے۔



















