داخلے پورے کرنے کے لئے زکریا یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کا قوانین سے کھلواڑ

زکریا یونیورسٹی میں داخلے پورے کرنے کےلئے شعبوں نے خلاف قانون اقدامات شروع کردیے، جس سے طلباء کا مستقبل داو پر لگ گیا۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی میں داخلوں کی تشویش ناک صورتحال؛ وائس چانسلر خود میدان میں آگئے
ذرائع کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے شعبہ کامرس نے مارننگ کی کلاسز کے دو سیکشن بنادیے ، فی کلاس 50 سٹوڈنٹ پر مشتمل ہے جبکہ ایوننگ کی کلاسز الگ سے ہوں گی۔
کامرس ڈیپارٹمنٹ یا بزنس سے متعلقہ مضامین کے ڈیپارٹمنٹس کو نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے الحاق لینا ہوتا ہے، ‘نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل’ یہ کونسل ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت کام کرتی ہے، اور اس کا کام ملک میں بزنس ایجوکیشن پروگرامز کی تسلیم شدہ معیار کے مطابق جانچ پڑتال اور منظوری دینا ہے.
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی میں نئے تعلیمی سیشن کے لیے پہلی میرٹ لسٹ آج لگائی جائے گی
یہ کونسل اساتذہ اور طلبا کی تعداد کے تناسب سے داخلوں کی اجازت دیتی ہے اور معیارات کو مدنظر رکھتی ہے، اس الحاق کے بغیر طلباء کی ڈگری کی قانونی حیثت نہیں ہوتی، کونسل کے قوانین کے تحت زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ کے ورک لوڈ کو دیکھتے ہوئے مارننگ کی کلاسز میں صرف ایک سیکشن بنایا جاسکتا ہے جبکہ دوسرے سیکشن کے طلبا کا الحاق ملنا مشکل ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بابت شعبہ کی چیئرمین کو معلوم ہے انہوں نے ایک اجلاس میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کونسل الحاق نہیں دے گی مگر ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ نے مشورہ دیا کہ کونسل کو دوسرے سیکشن کے بارے میں معلومات نہ دی جائیں صرف ایک سکیشن کو ظاہر کرکے الحاق لے لیا جائے، جس کے بعد یہ داخلے کئے گئے۔
دوسری طرف مارننگ کے دوسرے سیکشن کی وجہ سے یونیورسٹی پر پارٹ ٹائم ٹیچنگ کے معاوضوں کا دباؤ بڑھ جائے گا جو سال میں ایک کروڑ کے لگ بھگ ہوگا اگر یہ داخلے ایوننگ کلاسز میں ہوتے تو یونیورسٹی کو مالی فائدہ ہونا تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایوننگ کلاسز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے اب 50 فیصد ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہوگا جبکہ 50 فیصد یونیورسٹی کو ملے گااس سے پہلے یہ شرح 60 اور 40 فیصد تھی جب سے 50 فیصد ہوئی ہے، ڈیپارٹمنٹ کی شام کی کلاسز میں دلچسپی کم ہوگئی ہے اس لئے مارننگ میں داخلے کرنے کی کوشش کی جارہی ہ ے جس کی فیس بھی ایوننگ سے کم ہوتی ہے اس یونیورسٹی کو دہرے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔




















