اسلامی جمعیت طلباء نے زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ حارث بلوچ نے کہا ہے کہ جامعہ زکریا میں آئے روز طلبہ تنظیموں کے درمیان سر عام فائرنگ کا تبادلہ طلبہ میں خوف وہراس پیدا کر رہا ہے ، جو کہ تعلیمی درس گاہ کے لیے بہتر نہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی تک یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا گیا۔
روزانہ کی بنیاد پر آؤٹ سائڈرز یونیورسٹی کے اندر بغیر کسی پوچھ گچھ کے داخل ہوتے ہیں اور سر عام اسلحہ لے کر گھومتے ہیں۔۔مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انتظامیہ خاموش تماشائی بن کر خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ یونیورسٹی میں اسلحہ کلچر عام ہونے کی وجہ سے پہلے پہل تو صرف طلبہ میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔ لیکن اب تو اساتذہ کو بھی یرغمال بنایا جا رہا ہے۔
پچھلے سال بھی یونیورسٹی میں دن دیہاڑے ایک طالب علم کی جان لے لی گئی مگر یونیورسٹی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی معاملات کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ زکریا یونیورسٹی میں اسلحہ کلچر اور خوف و ہراس کی کیفیت کی بھرپور مذمت کرتی ہے ۔ اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جلد از جلد ان معاملات کو کنٹرول کیا جائے ، اور زمہ دار عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
اگر انتظامیہ اور وائس چانسلر معاملات کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اپنی نا اہلی کو قبول کرتے ہوئے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں.




















