Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

پی ایچ ڈی اسکالر حفصہ ثانیہ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ کرنے کی سفارش

دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو کی پی ایچ ڈی اسکالر حفصہ ثانیہ نے اپنےتحقیقی مقالہ بہ عنوان "اردو تنقید میں تین ناقدین کے نمائندہ رحجانات کا انتقادی جائزہ” کا کامیاب مجلسی دفاع کیا۔

ترجمان کے مطابق مجلسی دفاع کی تقریب کچہری کیمپس میں منعقد ہوئی، سکالر حفصہ ثانیہ نے اس موقع پربتایا کہ ادب کی دنیا میں تخلیق اور تنقید کا ازلی رشتہ ہے۔ مصور اپنی تخلیق کو نئے سرے سے دیکھ کر، ادیب اپنی تحریر پر اور نقاد اپنی تنقید پر نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

اگرچہ اردو میں نظریاتی تنقید انیسویں صدی میں شروع ہوئی تھی لیکن بیسویں صدی عملی تنقید کی صدی ہے، جس میں نظریاتی اور عملی تنقید ساتھ ساتھ چلتی ہے تنقید ادب کی روح کو تازگی بخشتی ہے کیونکہ تنقید کا براہ راست تعلق نقاد سے ہوتا ہے اور نقاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی فن پارے کو سمجھ کر اور اس کی تشریح کرتے ہوئے پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اسی تناظر میں "اردو تنقید میں تین نقادوں کے نمائندہ رجحانات کا تنقیدی جائزہ”لکھا گیا ہےاور ڈاکٹر آفتاب احمد (صحبت نازک خیالاں ) سید رضی عابدی ( اردو کے تین ناول ، اچھوتوں کا ادب ، تیسری دنیا کا ادب) اور ڈاکٹر شاہین مفتی ( اردو نظم میں وجودیت کی تحریک ، عورت کے اختیار اور آزادی کی علمبردار امریکی شاعرات ) کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر مقالے کی نگران ڈاکٹر عذرا لیاقت اور بیرونی ممتحن جی سی یونیورسٹی لاہور کی ڈاکٹر صائمہ ارم کا کہنا تھا کہ جدید فکر کے ہر دور میں فکر کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے مختلف اصول اور نظریات استعمال کیے گئے ہیں، ان اصولوں کی روشنی میں کئی نئی دنیاوں پر تنقید کی گئی ہے۔ جس دور میں ترقی پسند تحریک پروان چڑھی اور اس کے زیر سایہ سماجی اور ثقافتی تنقید کا رجحان بڑھتا گیا، اس زمانے میں مغرب میں بھی اپنی اپنی رفتار کی وجہ سے تنقید کے نئے رجحانات اور نظریات پروان چڑھ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے زندگی کی اقدار کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی تبدیلیاں اور ادبی پہلو بھی روز بروز بدل رہے تھے۔

سائنس کے دور میں پرانے نظریات کی جگہ نئے تجربات اور حقائق لے رہے تھے۔ ان حالات میں مغرب کی تنقید میں تبدیلی اور نئے رجحانات کا ابھرنا ایک فطری عمل تھا انہی تنقیدی رویوں کو جاننے کی کوشش جاری ہے ۔

بعد ازاں ڈاکٹرلر حفصہ ثانیہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کرنے کی منظوری دی گئی، اس موقع پر سینئر استاد پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد، سابق ڈین فکلیٹی آف ریلیجن اینڈ لینگویجز بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے علاوہ شعبہ اردو دی ویمن یونیورسٹی ملتان کی سینئر استاد پروفیسر ایمراطس، ڈاکٹر شگفتہ حسین، ڈاکٹر شاہدہ رسول ،ڈاکٹر سارہ مجید اور ڈاکٹر نجمہ عثمان بمع پی ایچ ڈی طالبات بھی موجود تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button