Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

جامعہ زرعیہ : ریجنل ایگریکلچر فورم برائے ساؤتھ پنجاب کی پہلی میٹنگ کا انعقاد

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) کی سربراہی میں گورنمنٹ پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی قائم کردہ ریجنل ایگریکلچر فورم برائے ساؤتھ پنجاب کی پہلی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

اس میٹنگ میں سپیشل سیکرٹری ایگریکلچر ساؤتھ پنجاب،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ ساؤتھ پنجاب ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایمری ملتان ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈائریکٹر مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، ملک جہاں زیب دھرالہ، آصف مجید، سید حسن رضا، ڈاکٹر خالد حمید نے شرکت کی۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ گورنمنٹ پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کا اس فورم کو بنانے کا بنیادی مقصد مقصد کاشتکاروں اور اداروں کے درمیان بہتر تعاون اور معلومات کا تبادلہ،تعلیم تحقیق اور محکمہ توسیع زراعت کی سرگرمیوں کو جوڑنا ،کسانوں کو درپیش نئے مسائل کے حل کی تجویز کرنا ،نئی ٹیکنالوجی اور تحقیق کو انڈسٹری کے ذریعے کسان تک پہنچانا ،ساؤتھ پنجاب کی زرعی ترقی کے لیے دستیاب وسائل کا بہتر استعمال کرنا اور چھوٹے کسانوں کے لیے تربیتی پروگرامز ورکشاپس موبائل کمپیوٹر ٹولز کے ذریعے سہولت دینا اور باقاعدگی سے میٹنگز کر کے سب کاموں کی نگرانی کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایگریکلچر کمپلیکس کو جدید بنانا عمارت اور دفاتر کو بہتر کرنا تاکہ سب ادارے ایک اچھے ماحول میں مل کر کام کریں،وسائل کی فہرست اور باہمی استعمال زمین پانی مشینری اور لیبارٹریز کی فہرست بنانا اور سب اداروں میں مشترکہ استعمال کا نظام تشکیل دینا ،طلبہ کی شمولیت، یونیورسٹی کے طلبہ کو ریسرچ اور نئے خیالات میں شامل کرنا شامل ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ گریجویٹ ریسرچ فورم کے پلیٹ فارم کو فعال بنانا اسے ایک علمی مرکز بنانا جہاں ہر ماہ سیمینار ورکشاپ اور سالانہ کانفرنس ہوں،مانیٹرنگ کا نظام ہر ماہ یا ہر تین ماہ بعد میٹنگز کر کے سرگرمیوں کا جائزہ لینا ،انڈسٹری کی شمولیت بیج کھاد اور زرعی دوائی بنانے والی کمپنیوں کو تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں شامل کرنا طلبہ کی تحقیق کو سپانسر کرنا اور نئی اقسام ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لانا ،ٹیکنیکل ورکنگ گروپس بنانا کپاس، گندم ،آم پانی کے انتظام اور موسمی تبدیلیوں کے لیے الگ الگ ماہرین کے گروپ بنانا بھی پروگرام کا حصہ ہے۔

اس موقع پر یونیورسٹی فیکلٹی ڈین ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button