Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

کپاس کی بحالی اور پیداوار میں اضافے کے لیے قومی مکالمہ

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں کپاس کی بحالی اور پیداوار میں اضافے کے لیے قومی مکالمہ” منعقد ہوا۔

اجلاس میں پی اے آر بی کے ممتاز کاٹن سائنسدان، ڈائریکٹر سی آر آئی، ڈائریکٹر سی سی آر آئی، اپٹما کے نمائندگان، پی سی پی اے کے نمائندگان، نجی شعبے کی صنعت کے نمائندگان اور پروگریسو کاشتکاروں نے شرکت کی جبکہ ازبکستان، چین اور مصر سے بین الاقوامی مقررین نے بھی خصوصی شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے پچھلی اسی نوعیت کی میٹنگز کا جامع جائزہ پیش کیا اور سال 2026 میں کپاس کی بحالی کے لیے اہم تجاویز بیان کیں۔کپاس کی فصل کو موسمیاتی تبدیلیوں جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور کاشتکاروں کو درپیش مالی مسائل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کے تعاون سے کسانوں کی ہر ممکن رہنمائی کی جائے گی ۔

بعد ازاں ڈاکٹر انجم علی بٹّر نے پنجاب حکومت کی کپاس کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر عبدالقیوم راؤ نے پاکستان میں مختلف بائیو ٹیکنالوجیکل اقدامات کے ذریعے اسمارٹ کاٹن کی ترقی کی کامیابیوں پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے خاص طور پر 5 جین پر مشتمل کپاس کی تیاری پر زور دیا جو کیڑے مکوڑوں کے خلاف بہتر مدافعت رکھتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اقبال بندیشہ (ایویول گروپ) نے کپاس میں (CLCuV) کے خلاف مزاحم اقسام کی تیاری کی حکمتِ عملی پر گفتگو کی۔بین الاقوامی مقررین میں شیے سی یان چین) نے پاکستان خصوصاً ملتان کے موسمی حالات میں کپاس کی کامیاب کاشت کے تجربات شیئر کیے۔

ڈاکٹر قربانوف ابرورجون یورکینووچ (کاٹن بریڈنگ اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ، تاشقند، ازبکستان) نے مالیکیولر جینیٹکس اور بائیو کیمیکل طریقوں پر مبنی جدید و پیچیدہ کاٹن بریڈنگ پر اپنا تحقیقی کام پیش کیا۔

ڈاکٹر محمد نجم، چیئرمین انٹرنیشنل کاٹن ریسرچرز ایسوسی ایشن (ICRA) مصر نے کپاس کی سپلائی چین، ویلیو ایڈیشن اور اس کے پاکستان کے حوالے سے ممکنہ اطلاق پر گفتگو کی۔

تقاریر کے بعد ایک پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد ہوا جس میں آن لائن اور فزیکل دونوں طرح کے شرکاء نے موجودہ حالات میں کپاس کی بحالی کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں، تمام شرکاء نے کپاس کی کاشت کو مشینی زراعت کی طرف منتقل کرنے پر زور دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے بھی میکانائزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جلال پور پیروالا میں یونیورسٹی فارمز پر ہائی ڈینسٹی کاٹن کی کاشت کا منصوبہ پیش کیا۔

اس موقع پر چیئرمین پی سی جی اے شام لال، چیئرمین اپٹما، کاٹن گروورز سمیت یونیورسٹی فیکلٹی بھی موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button