سمیر منہاس کی دھواں دار کارکردگی، جدوجہد اور قربانیوں کی داستان

ایشیا کپ انڈر 19 میں اپنے بیٹ سے دھاک بٹھانے والے پاکستانی بلے باز سمیر منہاس نے شاندار کارکردگی کے ذریعے نہ صرف ٹیم کو فتوحات دلائیں بلکہ اپنے اہلِ خانہ کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا نجی چینل دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سمیر منہاس کے والد کاشف منہاس نے کہا کہ محنت بالآخر رنگ لے آئی اور آج سمیر کی کامیابی ہمارے اعتماد کو یقین میں بدل چکی ہے۔
کاشف منہاس کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کے ساتھ برابر کی سطح پر کھڑے ہو کر کرکٹ کی ٹریننگ دیتے رہے اور ہر لمحہ ان کی بھرپور سپورٹ کی۔ ان کے مطابق سمیر بچپن ہی سے کرکٹ کا شوقین تھا، جبکہ ان کے بڑے بیٹے یاسر عرفات اس وقت پاکستان ٹیم کا حصہ ہیں اور چھوٹے بیٹے عبداللہ منہاس انڈر 15 اسکواڈ میں شمولیت کے قریب ہیں، ایسے میں سمیر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب سمیر صرف آٹھ سال کے تھے تو صحن میں کھیلتے ہوئے ان کی بیٹنگ اسٹائل دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ایک “چھوٹا موٹا کرکٹ ایٹم بم” ہے، جس پر اگر محنت کی جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج سمیر کی شاندار پرفارمنس نے اس اندازے کو درست ثابت کر دیا ہے۔
کاشف منہاس نے کورونا کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پریکٹس نہ ہونے پر دونوں بھائی پریشان تھے، جس کا حل یہ نکالا گیا کہ گھر کی چھت پر نیٹ لگایا گیا، لائٹس نصب کی گئیں اور پوری پابندی کے دوران چھت ہی کرکٹ گراؤنڈ بنی رہی۔خود ایک اچھے کرکٹر رہنے والے کاشف منہاس نے کہا کہ اگرچہ انہیں مناسب سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہ مل سکا، مگر وہ اپنے بچوں میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کے تینوں بیٹے پاکستان کا نام روشن کریں۔
واضح رہے کہ سمیر منہاس نے اس ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 471 رنز اسکور کیے، جن میں فائنل میں کھیلی گئی 172 رنز کی یادگار اننگز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ بھارت کے خلاف یہ فتح اس لیے بھی خاص رہی کہ پاک بھارت مقابلہ ہمیشہ سنسنی خیز اور جذباتی ہوتا ہے۔
کاشف منہاس کے مطابق اس کامیابی پر آج پورے شہر نے انہیں مبارکباد دی، ایک ایسا لمحہ جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔




















