زکریا یونیورسٹی : اے ایس اے کی جنرل باڈی کا اجلاس؛ وائس چانسلر کے رویہ کی مذمت، سلیکشن بورڈ نہ کرانے پر 16 ستمبر سے احتجاج کا اعلان
زکریا یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، سیکرٹری اے ایس اے ڈاکٹر خاور نوازش کے مطابق یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے طویل جنرل باڈی اجلاس پانچ گھٹے جاری رہا۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عبد الستار ملک صدر نے کی اجلاس میں اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور یونیورسٹی اساتذہ کو درپیش مختلف معاملات پر اظہارِ خیال کیا۔
وہ تمام اساتذہ جنھیں ترقیوں کے آرڈرز مل چکے ہیں انھیں سب نے مبارک باد دی تاہم ڈاکٹر فریدہ یوسف، ڈاکٹر ارم شہزادی، ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ، ڈاکٹر بنیامین، ڈاکٹر عمار حیدر زیدی، ڈاکٹر جمیل نتکانی سمیت ڈاکٹر مقرب اکبر اور دیگر اساتذہ نے حالیہ سلیکشن بورڈز میں اساتذہ کو ترقیوں سے محروم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
جنرل باڈی اجلاس کے تمام مقررین کا زیادہ موضوع انتظامیہ کی طرف سے اساتذہ کا تضحیک آمیز رویہ رہا۔ سینئر اساتذہ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور بیک زبان وائس چانسلر کی طرف سے بے عزتی اور ڈی گریڈ کیے جانے پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔
ڈینز اور چئیرمینوں کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر کسی سینئر استاد کی رائے کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں، انھوں نے دونوں سلیکشن بورڈز کے علاؤہ بھی مختلف مواقع پر انھیں تضحیک کا نشانہ بنایا ہے، شعبہ جات اساتذہ اور چئیرمینوں نے چلانے ہیں اگر ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں اور فیصلوں میں ان کا کوئی اختیار نہیں تو پھر تمام شعبے بھی وی سی خود چلا لے اور کلاسز بھی وہ اکیلے ہی پڑھا لیں۔
ہم ایسے ماحول میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ اساتذہ جنھیں ترقیوں سے محروم کیا گیا ہے وہ ہر طرح سے اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں، انھیں صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے ترقیوں سے محروم کیا گیا۔ اب تک ان سلیکشن بورڈ کے نتائج پر چھ رٹیں ہائی کورٹ میان دائر کی جاچکی ہیں، ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سلیکشن بورڈ ان اساتذہ کی شنوائی کرے اور ان کی محرومیوں کا ازالہ کرے لیکن وی سی صاحب عدالتی احکامات بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ، ڈاکٹر عامر اسماعیل اور ڈاکٹر محمد ریاض (ڈین فوڈ سائنسز) نے کہا کہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کو یہ جنرل باڈی اجلاس اس سلیکشن بورڈ سے اگلے ہی دن بلانا چاہیے تھا جب اساتذہ کے ساتھ یہ ناروا رویہ اختیار کیا گیا، اے ایس اے کمپرومائزڈ لگتی ہے، پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں بی زیڈ یو کی اے ایس اے کی مثالیں دی جاتی تھیں، آج ہمیں وہ اے ایس اے نظر نہیں آ رہی۔ انھوں نے کہا کہ یو ٹی ایف اس اے ایس اے کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتی ہے، آپ اساتذہ کے حقوق کے لیے بھرپور تحریک چلائیں ہم ساتھ ہیں۔
جنرل باڈی اجلاس میں اس وقت زیادہ گرما گرمی ہو گئی جب ویٹرنری کے ڈاکٹر اسحٰق نے پہلے ڈاکٹر حامد منظور اور ڈاکٹر عمران جاوید کا نام لے کر کہا کہ انھوں نے گریوینس کمیٹی کے رکن ہوتے ہوئے میری اشک شوئی نہیں کی اور پھر ڈین ویٹرنری پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے دورانِ انٹرویو انھیں سپورٹ نہیں کیا۔
ڈاکٹر حامد اور ڈاکٹر عمران نے سٹیج پر آکر ان کے بیان کی تردید کی اور بتایا کہ ڈاکٹر اسحق نے سراسر غلط بیانی کی ہے، ہم نے ان سے ہر معاملے میان بھرپور تعاون کیا اور اس کے گواہ ڈاکٹر بنیامین بھی ہیں جو اس کمیٹی کے ایک رکن ہیں۔
ڈاکٹر میاں محمد اویس اور ڈاکٹر رضا حمید نے بھی ڈاکٹر اسحق کے ڈین ویٹرنری پر الزامات کی مذمت کی اور کہا کہ ڈاکٹر اسحق کو اس فورم پر غیر مصدقہ بات کرکے سابق یا موجودہ ڈین کی تضحیک کا کوئی حق نہیں۔
اساتذہ کی بڑی تعداد نے حالیہ سینڈیکیٹ ایجنڈے میں رکھی گئی پروموشن پالیسی اور پارٹ ٹائم بڑھانے کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔
ڈاکٹر ساجد طفیل ممبر سینڈیکیٹ نے سٹیج پر آ کر ہاؤس کو گزشتہ سنڈیکیٹ اجلاس کی پوری تفصیل سے آگاہ کیا، انھوں نے بتایا کہ ہماری مخالفت کے باوجود وی سی صاحب نے یہ یکطرفہ فیصلہ استادوں پر مسلط کیا ہے۔ جس کے بعد ٹیچر کمیونٹی نے اس فیصلے کے خلاف اے ایس اے کی طرف سے پوری قوت کے ساتھ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر امتیاز وڑائچ نے حالیہ پروموشز اور بالخصوص آرڈرز کا بھرپور کوششوں سے اجرا کرانے پر اے ایس اے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارا یہ مجموعی مزاج ہے کہ ہم کسی کے ننانوے اچھے کاموں کو ایک طرف رکھ کر ایک جو نہ ہو سکا ہو اسے پکڑ لیتے ہیں، ہمیں جو کام ہوئے ان پر اپنے دوستوں کی تعریف بھی کرنی چاہیے۔
آخر میں ڈاکٹر عبدالستار ملک بحیثیت صدر نے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے نئے ترقی پانے والے اساتذہ کو مبارک باد دی۔ اس کے بعد جو اس مرحلے میں رہ گئے انھیں یقین دلایا کہ ہم پہلے کی طرح آپ کے حق کے لیے ساتھ کھڑے ہیں اور انشاءاللہ ہر موقع پر بھرپور طریقے سے ان کا کیس لڑیں گے۔
ڈاکٹر ستار ملک نے کہا کہ پہلے اور دوسرے سلیکشن بورڈ میں جو لوگ سلیکشن رہ گئے تھے، ان کے حوالے سے سینڈیکیٹ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ان کی رپورٹیں اگلی سینڈیکیٹ میٹنگ میں رکھی جائیں گی اور جو جو کیسز ری کنسڈر ہو سکتے ہوں گے انھیں ضرور کیا جائے گا، تاہم جو کیسز ڈیفر ہوئے تھے ان کے حوالے سے جب میں نے ڈاکٹر صہیب قدوس، ڈاکٹر ریاض اور ڈاکٹر بنیامین کے ہمراہ وی سی سے ملاقات کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں اگلا سلیکشن بورڈ اجلاس بلائیں گے اور تمام ڈیفرڈ کیسز کو اس میں رکھا جائے گا۔
اسی طرح ہم سے بارہا یہ وعدہ کیا گیا کہ پی ایچ ڈی مکمل کرکے سالوں سے انتظار میں بیٹھے ہوئے لیکچررز کی ایڈ فوری طور پر دی جائے گی لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوا۔ ہم اپنی اساتذہ کمیونٹی کے تمام مطالبات اور آج کی تقاریر کو سامنے رکھتے ہوئے اس جنرل باڈی اجلاس میں یہ قرارداد پیش کرتے ہیں کہ اگر 15 ستمبر تک سلیکشن بورڈ نوٹی فائی نہیں کیا جاتا اور پی ایچ ڈی لیکچررز کی ایڈ نہیں جاتی تو 16 ستمبر سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کلاس ورک کا بائیکاٹ کریں گے۔
اس قرارداد کو ہاؤس نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ہاؤس نے بیک زبان یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس قرارداد میں یہ بھی شامل کیا جائے کہ وائس چانسلر اور انتظامیہ اساتذہ کے لیے اپنا تضحیک آمیز رویہ بند کرے، یہ جو مختلف میٹنگز میں بلا کر بے عزت کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور سلیکشن بورڈ میں بٹھانے کے باوجود ڈینز اور چئیرمینوں کو نہ بولنے دیا جاتا ہے اور نہ ان کی کوئی گزارش سنی جاتی ہے، اس کی بھی مذمت اس قرار داد کا حصہ بنائی جائے۔
صدر اے ایس اے نے ہاؤس کی تائید کے بعد اسے بھی قرارداد میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پارٹ ٹائم کورسز کے معاملے میں ابھی تک زبانی جمع خرچ اور احکامات سے کام چلایا جا رہا ہے، جب کوئی کاغذ ہمارے سامنے آئے گا پھر ہم اس انتظامیہ کو بتائیں گے کہ اس ایکٹ میں کیا لکھا ہے جس کے مطابق یہ ہمارا لوڈ کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے ایکٹ سے آگے پیچھے نہیں ہوں گے اور کسی انتظامی زبردستی کو قبول نہیں کریں گے، وائس چانسلر کا یہ موقف بالکل غلط ہے کہ کیمسٹری فزکس یا ایگریکلچر کا استاد اسلامیات، پاک سٹڈیز اور انگریزی کے مضامین خود پڑھا لے، ایسے بالکل نہیں ہوگا، یہ کوئی سکول نہیں بلکہ یونیورسٹی ہے، ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ اس قسم کا سلوک قبول نہیں کریں گے۔
ڈاکٹر ستار ملک نے کہا کہ یہ جو تین تین چار چار ماہ تک اساتذہ کی پارٹ ٹائم پیمنٹس روک کر رکھنے کی حرکتیں ہیں یہ انتظامیہ کو زیب نہیں دیتیں، اس طرح سے بچتیں نہیں ہوتیں کہ بلز روک کر بنک میں پڑے ہوئے پیسے پر سود کمایا جائے۔ جو اساتذہ پارٹ ٹائم پڑھا چکے ہیں انھیں فوراً پیمنٹس کی جائیں۔
ڈاکٹر ستار ملک نے کہا جن مخالفین کو میرا بار بار پی ڈی الیکٹرک کا چارج یاد آ جاتا ہے انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے وہ چارج وی سی کے زبردستی دینے پر رکھا ہے اور اس کے نتیجے میں جامعہ کو اب تک دس کروڑ بجلی کی مد میں بچا کر بھی دی چکا ہوں، میں ہمیشہ نیک نیتی سے کام کرتا ہوں اور یہ اب انتظامی کو بھی پتا چل چکا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے کہا اے ایس اے کے طور پر بھی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر کمیونٹی کے لیے صدقِ دل سے کام کیا ہے اور خدمت کا یہ سفر اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اکیڈیثمک سٹاف ایسوسی ایشن کا دفتر ہمارے پاس موجود ہے۔
آخر میں انھوں نے سیکرٹری اے ایس اے ڈاکٹر خاور نوازش کو مخاطب کرکے کہا کہ اس اجلاس کے منٹس جلد از جلد وی سی آفس تک پہنچائیں، تاکہ ہم پندرہ دن کی حتمی تاریخ کے بعد کا لائحہ عمل بھی طے کریں ۔




















