Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ملتان میں "کپاس کی پلاننگ اسٹریٹجیز کی 2026” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت ملتان میں کپاس کی پلاننگ اسٹریٹجیز کی 2026″ کے عنوان سے ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں کاٹن فورم کی جانب سے تیار کردہ جامع تجاویز پیش کی گئیں جن کی روشنی میں صوبہ پنجاب میں کپاس کی آئندہ کاشت کے لیے حکمتِ عملی کو زیر غور لایا گیا۔

اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی زرعی یونیورسٹی ملتان، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس شبیر احمد خان،پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، ڈائریکٹر جنرلز محکمہ زراعت پنجاب نوید عصمت کاہلوں، ڈاکٹر عامر رسول، ڈاکٹر عبد القیوم، کنسلٹنٹ محکمہ زراعت ڈاکٹر محمد انجم علی سمیت کاٹن ایکسپرٹس سید حسن رضا، ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ، ڈاکٹر خالد حمید اور کاٹن ایڈوائزر اپٹما بھی شریک ہوۓ۔

اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ کپاس کی اگیتی کاشت کے لیے موزوں تحصیلوں اور سفارش کردہ اقسام کی فہرست جلد جاری کر دی جائے گی تاکہ کاشتکار بروقت اور بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن کی پائیدار بحالی کے لیے پیداوار انسداد آفات، آپپاشی، مارکیٹ میکانزم اور تحقیق و ترقی کے لیے باہمی انضمام کی اشد ضرورت ہے۔ کپاس کی لمبے ریشے والی اعلیٰ اقسام کی کاشت کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ملکی ٹیکسٹائل صنعت کو معیاری خام مال کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

افتخار علی سہو نے بتایا کہ بہاولپور ڈویژن کو باقاعدہ کاٹن ویلی میں تبدیل کرنے کے لیے دو ارب روپے سے زائد مالیت کا خصوصی پروگرام جاری ہے، جس سے نہ صرف کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کاشتکاروں کی آمدن میں بھی بہتری آئے گی۔

اس موقع پر ڈاکٹر آصف علی نے پریزنٹیشن پیش کی جس میں 2026 کے کاٹن اہداف کے بارے میں بتایا گیا۔انہوں نے ابتدائی اور موسمی کاٹن کے لیے علیحدہ کاٹن زون کی تجویز دی،زیادہ کاشت کے بجائے زیادہ پیداوار پر سٹریٹیجک توجہ دی جائے،کارپوریٹ اور کلسٹر بیسڈ فارمنگ کا فروغ،2025 کے تقابلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف علی نے بتایا کہ سندھ میں 9-13 لاکھ ایکڑ جبکہ پنجاب میں 1-32 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاٹن کاشت کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں 1-32 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاٹن کاشت کی گئی۔پیداوار کے لحاظ پنجاب میں 1۔38 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوئیں۔تاہم فی ایکڑ پیداوار پنجاب میں یہ 14.6 من فی ایکڑ رہی۔

اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جدید ریسرچ اور تحقیق پر مبنی اقدامات کے ذریعے پنجاب میں کاٹن کی پیداواری صلاحیت معیار اور کاشتکاروں کے منافع میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button