دی ویمن یونیورسٹی، ملتان میں منشیات کے خلاف آگاہی واک اور سیشن کا انعقاد

ترجمان کے مطابق ویمن یونیورسٹی، ملتان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف مؤثر آگاہی کے لیے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) کی ہدایات کی روشنی میں آگاہی واک، پوسٹرز کی نمائش اور آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کی۔
اس سرگرمی کا مقصد طالبات میں منشیات کے استعمال کے نقصانات سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور صحت مند و مثبت طرزِ زندگی کو فروغ دینا تھا۔
آگاہی واک میں یونیورسٹی کی فیکلٹی، افسران اور طالبات نے بھرپور شرکت کی شرکاء نے منشیات کے خلاف نعرے درج پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ مختلف مقامات پر لگائے گئے آگاہی پوسٹرز کے ذریعے منشیات کے جسمانی، ذہنی، سماجی اور تعلیمی نقصانات کو اجاگر کیا گیا۔
آگاہی سیشن میںمہمان خصوصی کرنل (ر) وقار اعظم، ڈائریکٹر سی این ایف ملتان ڈویژن اور ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول سٹیشن ملتان ڈویژن بتایا کہ منشیات نہ صرف فرد کی صحت اور مستقبل کو تباہ کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
انہوں منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافے، جرائم کے ساتھ اس کا براہ راست تعلق، دماغی صحت کی خرابی، اور سماجی ٹوٹ پھوٹ پر تبادلہ خیال کیا، اور نفاذ، روک تھام اور بحالی میں انسداد منشیات فورس کے اسٹریٹجک کردار کی وضاحت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ منشیات جدید معاشرے بالخصوص نوجوانوں کو درپیش سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے نوجوان نسل خصوصاً طالبات قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا منشیات جیسے مہلک رجحان سے محفوظ رہنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تعلیمی اداروں کا بنیادی فریضہ صرف تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ و طالبات کی اخلاقی تربیت اور مثبت رہنمائی بھی ہے اس نوعیت کی آگاہی سرگرمیاں نوجوانوں کو منشیات کے جال سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
طالبات کو چاہیے کہ وہ خود بھی منشیات کے خلاف آگاہی کا پیغام آگے پہنچائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں دی ویمن یونیورسٹی، ملتان مستقبل میں بھی منشیات کے خلاف آگاہی پروگرامز کا تسلسل جاری رکھے گی
۔
رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی ذمہ داری معمول کی حکمرانی سے بڑھ کر طلباء کی جسمانی حفاظت، نفسیاتی تندرستی اور اخلاقی سالمیت کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے منشیات کے خلاف یونیورسٹی کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا۔
عرفان حیدر، ڈپٹی رجسٹرار اور چیف سیکیورٹی آفیسر، نے کہا کہ کیمپس سیکیورٹی میں نہ صرف جسمانی تحفظ شامل ہے بلکہ سماجی برائیوں جیسے کہ منشیات کے استعمال کی روک تھام بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے متعلق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک چوکس، نظم و ضبط اور آگاہی کیمپس کمیونٹی ضروری ہے۔
سیمینار میں طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔




















